الجواب:-سونا یا چاندی کو کرنسی کے عوض ادھار اور کمی زیادتی کے ساتھ فروخت کرنا جائز ہے کیونکہ یہ دونوں مختلف الجنس ہے اور مختلف الجنس کی صورت میں دونوں یعنی ادھار اور تفاصل جائز ہے-
📖 هذا إذا وقع تبادل الفلوس بجنسها واما اذا وقع بغير جنسها فيجوز التفاضل في قولهم جميعا ويحرم النسيئة في قول ما لك رحمه الله... ولا تحرم على قياس قول الحنفية لأنه لا قدر فيها ولا جنس (تكمله فتح الملهم: ٥٨٩/١،اشرفية)
📖 وكذا إذا تبايعا درهما بعينه أو دينارا بعينه بفلوس باعيانها فانها لا تتعين ايضا كما لا تتعين الدراهم والدينانير لما قلنا إلا أن القبض في المجلس ههنا شرط بقاء العقد على الصحة حتى لو افترقا من غير نقابض أصلاً يبطل العقد لحصول الافتراق عن دين بدين(بدائع الصنائع :٤٨٧/٤،اشرفيه ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- اگر کوئی شخص استطاعت سے پہلے حج کرے تو استطاعت کے بعد دوبارہ حج کرنا ضروری ہے یا نہیں؟
- ارکان حج کتنی ہے ؟ہر ایک کی وضاحت کریں؟
- سفر حج پر روانگی کے وقت اور اس سے واپسی کے وقت دعا کرنا شرعا کیسا ہے؟
- تعمیر مسجد میں غیر مسلم کا پیسہ، سرکاری پیسہ اور کنڈیڈیٹس کے واسطے پیسہ لگانا جائز ہے؟
- مینڈک کا تیل ایک درہم سے زائد لگا کر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟