الجواب:-اگر کوئی شخص ماء مستعمل سے وضو اور غسل کر لے تو شرعا اس کا وضو اور غسل نہیں ہوگا کیونکہ یہ تو پاک ہے لیکن اس لیے کہ جو پانی وضو اور غسل کرنے میں بدن سے گرا وہ مستعمل ہو جاتا ہے اس پانی سے دوبارہ وضو اور غسل کرنے کا قدرت نہیں رکھتا ہے-
📖 قال الماء، المستعمل لا يطهر الأحداث.....(اشرف الهداية:١٤٧/١،كتاب الطهارة، زكريا ديوبند)
📖 اتفق اصحابنا رحمهم الله: ان الماء المستعمل ليس بطهور حتى لا يجوز التوضو به (هنديه: ٧٥/١،كتاب الطهارة،زكريا ديوبند)
📖 والماء المستعمل لا يجوز استعماله في طهارة الأحداث (انوار القدورى:٦١/١ كتاب الطهارة،دار الاشاعت ،كراچی)
مزید متعلقہ سوالات
- ائمہ اربعہ کے نزدیک بیس رکعت سے کم تراویح پڑھنے کا حکم
- سال پورا ہونے کے بعد نصاب ہلاک ہوجائے تو زکوٰۃ لازم ہوگی؟
- دیوالی کے موقع پر Happy Diwali کا اسٹیٹس لگانا کیسا ہے؟
- اگر کوئی شخص ایسی جگہ جائے جہاں پر جانے کی دو راستہ ہو ایک رستہ سے می کی مقدار پوری ہو رہی ہو اور دوسری راستہ سے کم تو ایسی صورت میں اس جگہ پہنچنے والا مسافر ہوگا یا نہیں یا اس میں کوئی تفصیلسافرت شرع ہے نیز اگر اس جگہ اس راستہ سے آئے جس سے سفر شرعی کی مقدار پوری ہو رہی ہو پھر اس شخص کا کیا حکم ہے تسلی بخش جواب تحریر کریں؟
- اگر کسی مقام تک پہنچنے کے دو راستے ہوں، ایک راستہ مسافتِ شرعی کے بقدر ہو اور دوسرا اس سے کم، تو اس مقام تک پہنچنے والے کے مسافر ہونے کا کیا حکم ہے؟ نیز اگر وہ مسافتِ شرعی والے راستے سے جائے تو کیا حکم ہوگا؟