الجواب:-صورت مسؤلہ کا اصول یہ ہے کہ راستہ کا اعتبار ہوگا اگر وہ شخص اس جگہ پر سفر کی نیت کر کے اس راستہ سے وہاں پہنچے جس راستہ سے مسافرت شرعی ہے اس وقت وہ مسافر ہوگا ورنہ نہیں یعنی وہ جس راستہ سے مسافرت شرعی کم ہے اس سے کیا تو مسافر نہیں بلکہ وہ مقیم ہی رہے گا اب رہی بات اگر وہ واپسی کے وقت اس راستہ سے ائے جہاں سے سفر شرعی کی مقدار پوری ہو رہی ہو تو مسافر ہی ہے ورنہ نہیں –
📖 ولو لموضعٍ طريقان، أحدهما مدةُ السفر والآخر أقلُّ، قصر في الأول لا الثاني. (رد المحتار على الدر المختار، 2/603، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، مكتبة زكريا، ديوبند)
📖 وإنما يُعتبر في كل موضعٍ منهما ما يليق بحاله، وتُعتبر المدة من أيِّ طريقٍ آخر فيه... هذا قصد بلدةً وله إلى مقصده طريقان، أحدهما مسيرةُ ثلاثةِ أيامٍ... (الفتاوى الهندية، 1/198–199، كتاب الصلاة، مكتبة زكريا، ديوبند)
📖 الرجل إذا قصد بلدةً، وله إلى مقصده طريقان، أحدهما مسيرةُ ثلاثةِ أيامٍ ولياليها، والآخر دونها، فسلك الأبعدَ كان مسافرًا عندنا. (فتاوى قاضي خان، 1/104، كتاب الصلاة، مكتبة زكريا، ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- سال پورا ہونے کے بعد نصاب ہلاک ہوجائے تو زکوٰۃ لازم ہوگی؟
- دیوالی کے موقع پر Happy Diwali کا اسٹیٹس لگانا کیسا ہے؟
- اگر کسی مقام تک پہنچنے کے دو راستے ہوں، ایک راستہ مسافتِ شرعی کے بقدر ہو اور دوسرا اس سے کم، تو اس مقام تک پہنچنے والے کے مسافر ہونے کا کیا حکم ہے؟ نیز اگر وہ مسافتِ شرعی والے راستے سے جائے تو کیا حکم ہوگا؟
- صدقات کی اقسام، احکام اور مصارف کی تفصیل
- مسبوق اپنی نماز کو کس طرح ادا کرے گا مفصل مدلل بیان کرو؟