سوال:- مسجد میں مدارس اور مساجد کے لیے اور دینیات کے لیے دین کی ضرورت کے لیے نماز اور سلام کے بعد چندہ کا اعلان کرنا جائز ہے یا نہیں بعض کتب خانہ کی جزئیات سے منع معلوم ہوتا ہے اور بعض سے کچھ شرائط کے ساتھ کچھ گنجائش معلوم ہوتی ہے مفتی صاحب سے گزارش ہے کہ صحیح کتاب کے حوالہ سے مسئلہ تحریر فرمائے اور رہنمائی فرمائے؟
الجواب و باللہ توفیق:-مسجد کے آداب کا خیال کرتے ہوئے مسجد میں صرف دینی ضرورت کے لیے اور ایسی ضرورت کے لیے جو اس کے لیے انتہائی ضروری ہو اعلان کرنا درست ہے-
📖 ويكره التخطى للسؤال بكل حال قال في النهر: والمختار أن السائل ان كان لا يمر بين يدي المصلى ولا يتخطى الرقاب ولا يسأل الحافا بل لامر لا بدمنه فلا باس بالسؤال والاعطاء. (شامي: 42/3، زكريا ديوبند)
📖 وكره الحنفية التخطى للسؤال فلا يمر السائل بين يدي المصلى ولا يتخطى رقاب الناس ولا يسأل الناس الحافا إلا إذا كان لامر لا بدمنه (الموسوعة الفقهية:223/37)
📖 وقال صدر الشهيد أن السائل إذا كان لا يمر بين يدي المصلى ولا يتخطى رقابا ولا يسأل الحافا إلا إذا كان لامر لا بدمنه فلا باس بالسؤال (هدايه: 94/2،باب صلاة العبدين،نعيميه)