الجواب وباللہ التوفیق:-رکوع یا سجدہ کی حالت میں دعائے ماثورہ پڑھنے کی بجائے سورہ فاتحہ یا اور کوئی سورہ پڑھ لے تو اس پر سجدہ سہو لازم ہوگا-
📖 📖 إذا قرا المصلى القرآن في ركوعه وسجوده لا تبطل صلاته عند ابي حنيفة مطلقا سواء قرا عابدا أو ناسيا ولكن في الناسى تجب سجدة السهو (منتخب الأفكار:٥٨٩/٥)
📖 📖 لو قرا التشهد في الركوع أو السجود لا سهو عليه بخلاف قراءة القرآن فيهما فان فيه السهو (فتح القدير: ٥٢١/١،اشرفية ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- مستعمل پانی سے وضو کرنا جائز ہے یا نہیں؟
- طواف زیارت کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا شرعا کیسا ہے نیز اگر کوئی شخص عصر کے بعد طواف مکمل کرے تو یہ دو رکعت ادا کرنا اسی وقت شرعا درست ہے یا نہیں یا ضروری ہے اگر درست اور ضروری ہو تو کیوں جبکہ عصر کی نماز پڑھنا منع ہے کوئی نماز اگر درست نہ ہو تو کیوں ؟ مدلل بیان کریں؟
- نصاب کے بقدر سونا یا چاندی ہو اور زکوۃ کی رقم نہ ہو تو کیا کرے
- لڑکی والوں کا رخصتی کے وقت دوست و احباب کو کھانا کھلانے کا حکم
- جمعہ کے جواز کے لیے تین آدمیوں کے علاوہ شہر کی شرط بھی ہے یا نہیں