الجواب وباللہ التوفیق:-تعمیر مسجد میں جس طرح غیر مسلموں کا پیسہ لگانا مباح ہے اسی طرح کنڈ ڈیٹس کے واسطے سے سرکاری پیسہ لگانا یا پوری مسجد بنانا جائز اور درست ہے بشرطیکہ ان میں سے کسی کا اس تعاون کی وجہ سے مسجد کے تعاملات میں دخل اندازی کا اندیشہ نہ ہو تو ایسی صورت میں سرکاری پیسہ سے جو مسجد بنی ہے یا تعاون کرایا گیا ہے یہ جائز اور درست ہے(المستفاد قاسمية:-٥٣٣/١٨)

📖 واما الاسلام فليس من بشرطه فصح وقف الذمي بشرط كونه قربة عندنا وعندهم كما لو وقف على اولاده أو على الفقراء أو على فقراء اهل الذمة فان عمم جاز الصرف إلى كل فقير مسلم أو كافر(البحر الرائق: كتاب الوقف: ١٨٩/٥،كوئہ: ٣١٦/٥)

📖 شرط وقف الذمي ان يكون قربة عندنا وعندهم كالوقت على الفقراء او على مسجد القدس(شامي: ٥٢٤/٦،زكريا )

📖 او بعمارة المسجد الاقصى ونحو ذلك جاذ في قولهم جميعا لان هذا مما يتقرب به المسلمون او اهل ذمه (بدائع الصنائع:۴۳۹،زکریا)