الجواب باللہ التوفیق: ہمیشہ کے لیے اولاد کا سلسلہ منقطع کرا لینا ناجائز اور حرام ہے اور سوال میں جو عذر لکھا گیا ہے تو اس سے نجات پانے کے لیے وقتی اور عارضی تدابیر اختیار کی جائیں مثلا مانع حمل دوا استعمال کر لی جائے جس سے کچھ وقت کے لیے استقرار حمل بند ہو جائے لیکن دائمی طور پر اولاد کا سلسلہ منقطع کرا لینا اس کا آپریشن کرا لینا جائز نہیں ہے۔

📖 وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمُ. [انعام: ١٥١]

📖 وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُمُ كَانَ خِطَا كَبِيرًا. [ بنی اسرائیل: ۳۱]

📖 وَإِذَا الْمَوْءُ وُدَةُ سُئِلَتْ بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتُ. [التكوير: )

مزید متعلقہ سوالات