الجواب وباللہ التوفیق:-نمازی کا قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا ضروری ہے لیکن ٹرین میں دوران نماز مکمل طور پر قبلہ رخ رہنا ناممکن ہے لہذا ایسی جگہوں میں نماز پڑھتے وقت بقدر استطاعت قبلہ رخ ہونا ضروری ہے لہذا دوران نماز قبلہ رخ ہونا ضروری نہیں ہے کیونکہ نماز میں یہ پتہ لگانا کہ ٹرین کس سمت میں چل رہی ہے مشکل ہے اور اس کی استطاعت سے باہر ہے اور توجہ الی القبلة قدرت پر موقوف ہے لہذا نماز بلا کراہت درست ہو جائے گی-
📖 📖 وينبغي أن يتوجه الى القبلة كيفما دارت السقينة سواء كان عند الافتتاح أو في خلال الصلاة لان التوجه فرض عند القدرة... قال بعد الحذاق المتبادر أن لزوم التوجه... بالقدرة عليه اذا الاستقبال قد يسقط للعذر(طحطاوي على المراقي: ص:410)
📖 📖 وقبلة العاجز عنها... جهة قدرته (در مختار) تحته في الشامية: أي تكون قبلته جهة قدرته (شامي: 114/2-115، زكريا ديوبند)
📖 📖 ويلزم استقبال القبلة عند الافتتاح وكلما دارت، تحته في الشامية وان عجز عنه صح لما تقرر من أن القبلة العاجز جهة قدرته وهو كذلك (شامي: 573/2،زكريا ديوبند) لان التوجه الى القبلة بقدر من الممكن فرض(بدائع صنائع:285/1،زكريا ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- تکبیر اولی سے نماز پڑھنے کی فضیلت کیا ہے مدلل بیان کریں؟
- اگر کوئی حاجی احرام باندھے بغیر میقات سے نکل جائے تو شرعا کیا حکم ہے؟
- سوال:-کیا اس امت سے پہلے کسی دوسری امت پر کوئی نماز فرض تھی یا نہیں اگر کوئی نماز فرض تھی تو وہ کیا ہے؟
- واجب زکوۃ کے لیے کتنی شرائط ہیں ہر ایک کو بیان کریں؟
- اگر دوران نماز امام کو کوئی عذر پیش آ جائے تو ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے؟