👁دیکھنے والوں کی تعداد:0

ایک شخص ارکان عمرہ ادا کر رہا تھا کہ ابھی تیسرا چکر پورا نہیں ہو سکا کہ اس کے پیر کی انگلی کا ناخن اکھڑ کر خون بہہ گیا یقینی طور پر وضو ٹوٹ گیا ایسی حالت میں اس نے وضو کے بغیر طواف پورا کیا پھر سعی بھی کر لیا اس کے بعد حلق بھی کر لیا یعنی عمرہ مکمل کر لیا پھر اس کے بعد اس نے مسئلہ معلوم کیا کہ خون نکل کر بہہ جانے کی وجہ سے وضو ٹوٹ گیا اسی حالت میں طواف پورا کرنے کی وجہ سے دم واجب ہوگا یا نہیں ؟

الجواب:- صورت مسؤلہ میں مذکور شخص پر دم واجب ہوگا جب تک مکہ میں موجود ہے اس صورت میں طواف کا اعادہ کرے گا تو دم واجب نہیں ہوگا لیکن اگر وہاں سے لوٹ آئے تو اس صورت میں دم واجب ہوگا-

📖 وَأَمَّا طَوَافُ الْعُمْرَةِ، فَإِنْ طَافَ لَهَا جَمِيعَ الطَّوَافِ أَوْ أَكْثَرَهُ مُحْدِثًا، وَحَيْثُ الْإِعَادَةُ أَوِ الدَّمُ إِنْ لَمْ يُعِدْ... وَفِي «الْهِدَايَةِ»: وَمَنْ طَافَ لِعُمْرَتِهِ وَسَعَى عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ مِنْهُ، وَحَلَّ، فَمَا دَامَ بِمَكَّةَ يُعِيدُهُمَا، وَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ.حوالہ: البحر العميق، ج ١، ص ١١٣١۔

📖 وَلَوْ طَافَ لِلْعُمْرَةِ كُلَّهُ، أَوْ أَكْثَرَهُ، أَوْ أَقَلَّهُ، وَلَوْ شَوْطًا، جُنُبًا أَوْ حَائِضًا أَوْ مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ شَاةٌ، لَا فَرْقَ فِيهِ بَيْنَ الْكَثِيرِ وَالْقَلِيلِ، وَالْجُنُبِ وَالْمُحْدِثِ؛ لِأَنَّهُ لَا يَدْخُلُ فِي طَوَافِ الْعُمْرَةِ لِلْبَدَنَةِ، وَلَا لِلضَّرُورَةِ، بِخِلَافِ طَوَافِ الزِّيَارَةِ. وَكَذَا لَوْ تَرَكَ الْأَقَلَّ مِنْهُ، وَلَوْ شَوْطًا، لَزِمَهُ، وَلَوْ أَعَادَهُ سَقَطَ عَنْهُ الدَّمُ.حوالہ: غنية الناسك، ص ٤٢٨۔

یہ مسئلہ دوسروں تک پہنچائیں