اگر لڑکا لڑکی فون یا ویڈیو کل کے ذریعہ سے ایجاب و قبول کریں اور مجلس نکاح منعقد نہیں ہے جس میں دو گواہ ایک مجلس میں موجود ہو یا لڑکی کے پاس ایک گواہ ہے اور لڑکے کے پاس ایک گواہ ہے تو نکاح منعقد ہو جائے گا یا نہیں؟ دونوں گواہوں کی مجلس ایک نہیں ہے تو نکاح منعقد ہو جائے گا یا نہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:-صورت مسئولہ میں لڑکا لڑکی فون یا ویڈیو کل کے ذریعہ سے ایجاب و قبول کرے جبکہ مجلس نکاح منعقد نہیں ہے تو نکاح صحیح نہیں ہوگا خواہ دو گواہ ایک مجلس میں موجود ہو یا لڑکی کے پاس اور لڑکے کے پاس ایک گواہ ہے کیونکہ شرائط میں سے مجلس نکاح بھی شرط ہے جو پائی نہیں گئی لہذا مذکورہ صورت میں نکاح منعقد نہیں ہوگا-
📖 ثم اعلم ان الشرط ساع الشهود وقراءة الكتاب مع قبولها (البحر الرائق: ١٤٨/٣)
📖 واما الشروطه فمنها ساع الشاهد من كلامهما معا_ ولو سمعا كلام احدهما والآخر كلام الآخر لا يجوز النكاح (هندية جديد:٣٣٣/١)
📖 لقوله معا ما لو سمعا منترفين بأن حضر احدهما العقد ثم غاب واعيد بحضرة الآخر أو سمع احدهما الايجاب والآخر القبول (شامي: ٩١/٤-٩٢)
مزید متعلقہ سوالات
- مسافر امام نے قصر کے بجائے چار رکعت پڑھا دیں تو بعد میں یاد آنے پر کیا کرے؟
- میت کو قرآن خوانی کا ثواب پہنچانا صحیح حدیث سے ثابت ہے؟
- مسجد کی زائد چٹائیاں اور قالین فروخت کرکے رقم مسجد کی ضروریات میں خرچ کرنا جائز ہے؟
- نجاست حقیقہ کی پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
- ایک صاحب کے دو بچے دو لڑکے دوسرے صاحب کا ایک لڑکا یہ دونوں آدمی یہ چاہتے ہیں کہ بڑے جانور ان بچوں کی طرف سے ذبح کیا جائے تو اس کی کیا شکل ہوگی جب کہ ہر بچہ کی طرف سے الگ جانور ذبح طے ہو رہا ہے اگر حصہ داری کا اعتبار کرتے ہیں تو ہر بچہ کی طرف سے دو دو حصے ہو جاتے ہیں تو ایک حصہ بچ جاتا ہے تو اس ایک حصہ کے بارے میں کیا کیا جائے؟