باسمه سبحانه وتعالیٰ الجواب وباللّٰه التوفیق: عید کے دن عید گاہ جانے سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا مستحب ہے البتہ اگر کسی نے عید کے دن ادا نہ کیا تو صدقۃ الفطر کی ادائگی اس کے ذمے واجب رہے گی اور جب بھی ادا کرے گا ادا ہو جائے گا….
📖 قوله:وهو الصحيح هو ما عليه المتون بقولهم: وصح لو قدم أو أخر قوله: مطلق أي عن الوقت فتجب في مطلق الوقت وإنما يتعين بتعيينه فعلاً أو آخر العمر، ففي أي وقت أدى كان مؤدياً لا قاضياً كما في سائر الواجبات الموسعة غير أن المستحب قبل الخروج إلى المصلى؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: أغنوهم عن المسألة في هذا اليوم (شامی زکریا:کتاب الزکاۃ، باب صدقة الفطر:ج٣ ص/٣١٠-٣١١)
مزید متعلقہ سوالات
- ایک بوڑھے آدمی نے اس رمضان المبارک کے مہینے میں ایک بھی روزہ نہیں رکھا اور نہیں آگے رکھنے کے امکانات ہیں ۔ انکی طرف سے گھر والے تمام روزو کا فدیہ دینا چاہتے ہیں ۔ اب معلوم یہ کرنا تھا کہ جو فدیہ کی رقم بنےگی اسکی تملیک کراکر وہ رقم اس شخص پر خرچ کرسکتے ہیں جو مستحق زکوٰۃ نہیں ہے
- زید نے عمرو کے پاس 15 تولہ سونا گروی میں رکھا ہے 15 تولہ سونا گروی میں رکھ کل 10 لاکھ روپے کا قرض لے رکھا ہے تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زید کے اوپر زکوۃ واجب ہے یا نہیں جو عمرو نے زید کو دس لاکھ روپے قرض دے رکھا ہے اور عمرو نے زید کے جو 15 تولہ سونا گروی رکھا ہے اس پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟
- سڑک پر نماز جنازہ ہو رہی ہے سڑک عام طور پر ناپاک ہوتی ہے تو نماز جنازہ چپل پہن کر پڑھیں گے؟ کیا شکل ہوگی واضح فرمائیں ؟
- کیمرے کی تصویر کشی کی اجرت حلال ہے یا نہیں؟
- مسجد کے لیے زمین وقف کی گئی ہے جس میں مسجد کے ساتھ ایک طرف وضو خانہ بنایا گیا اور وضو خانہ مصالح مسجد میں داخل ہے اور اس طرح مصالح مسجد بن جانے کے بعد چونکہ جماعت خانہ سے وضو خانہ کو خارج رکھا گیا ہے تو وضو خانہ کے اوپر مسجد بن جانے کے بعد امام و مؤذن کے لیے فیملی کواٹر بنانا جائز ہے یا نہیں؟