ایک شخص کی اپنی بیوی کے ساتھ لڑائی چل رہی ہے اس کے دوستوں میں سے کسی نے اس کی بیوی کو طلاق لکھ کر بھیج دیا تو یہ طلاق معتبر ہوگی یا نہیں ؟
شریعت میں شوہر کے علاوہ کسی اور کی طلاق معتبر نہیں ہے لہذا مزدورہ صورت میں بھی طلاق معتبر نہ ہوگی-
📖 عن ابن عباس قال فصعد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال..... انما الطلاق لمن اخذ بالساق (سنن ابن ماجه كتاب الطلاق : دار السلام رقم: ٢٠٨١)
📖 ويقع الطلاق كل زوج بالغ عاقل (در المختار كتاب الطلاق: ٢٣٥/٤-زكريا)
مزید متعلقہ سوالات
- عورت دوسری شادی کرے تو جنت میں اسے کون سا شوہر ملے گا؟
- دوسرے کے برے عمل سے بیزاری کی دعا کیا ہے؟
- نام بدلنے سے بیماری دور ہونے کا عقیدہ کیسا ہے؟
- فرض نماز گھر میں تراویح کے ساتھ پڑھنا کیسا ہے؟
- سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بہت کثرت سے وائرل ہورہی ہے جس میں ایک شخص یہ کہ رہا ہے کہ نماز وتر میں دو رکعت کے بعد تشہد احادیث سے ثابت نہیں اور یہ بھی کہ رہا ہے کہ وتر کو مغرب کی طرح نہ پڑھو اس طرح آپ کی وتر کی نماز نہیں ہوتی دعاء قنوت کی جگہ فنوت نازلہ پڑھی جائے گی یہ شخص لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر؛رہا ہے برائے مہربانی ہم سب کی صحیح بات کی طرف رہنمائی فرمائیں۔