جواب:-جب جسم کے اجزاء منتشر ہو جائے تو ایسی صورت میں لاش کے تمم اعضاء کو ایک جگہ جمع کر کے ان پر پانی بہا دیا جائے اور ایک کپڑے میں لپٹ کر ان اجزاء پر نماز جنازہ پڑھ لیا جائے اور دفن کر دیا جائے کیونکہ اکثر بدن موجود ہے۔
📖 وعلى هذا يخرج ما اذا وجد طرف من اطراف الانسان كيد ورجل انه لا يغسل لان الشرع ورد بغسل الميت ،والميت اسم بكله ولو وجد الاكثر منه غسل؛ لان للاكثر حكم الكل (بائع الصنائع: كتاب الجنائز فصل في شرائط وجوب الغسل، قديم:٣٠٢/١،زكريا: ٢٨/٢)
📖 ولو وجد اكثر البدن او نصفه مع الراس يغسل و يكفن ويصلى عليه (هندية: كتاب الصلاة باب الحادي والعشرون في الجنائز الفصل الثاني في الغسل؛ زكريا قديم:١٥٩/١،زكريا جديد:٢١٩/١)
مزید متعلقہ سوالات
- طوفان،زلزلہ، بلا مصیبت کی وقت اذان دینا شرعا ثابت ہے یا نہیں اگر ثابت نہیں تو کیوں یا اس میں کوئی اختلاف ہے ہر صورت مفصل مدلل بیان کریں؟
- اگر کسی شخص نے پہلی رکعت میں بھول سے تین سجدہ کرلیا تو کیا حکم ہے؟
- تین سیزیرین کے بعد دائمی مانعِ حمل آپریشن کا حکم
- فرض نماز کی جماعت میں صفوں کو سیدھی کرنا اور سیدھی رکھنا کیا حکم رکھتا ہے اور تیڑھی تیڑھی کر رہنا کیسا ہے اگر تیڑھی تیڑھی کرنا جائز نہیں ہے تو درمیانی صف میں میز ر کھ کر کے کرسی پر بیٹھ کر کے نماز پڑھنا کراہت میں داخل ہوگا یا نہیں اگر وہ بھی معذور آدمی ہے اس کو اگر کرسی پر بیٹھ کر کے نماز پڑھنے کی سخت ضرورت ہے تو اپنی کرسی کہاں رکھ کر نماز پڑھے؟
- سردی کے موسم میں لحاف وغیرہ ناپاک ہوجائے تو صرف تر کپڑے سے پوچھ دینے سے پاک ہوجائے گا ؟ واضح رہے کہ اگر دھل دیا جاۓ تو خشک ہونے میں وقت لگتا ھو؟