طوفان،زلزلہ، بلا مصیبت کی وقت اذان دینا شرعا ثابت ہے یا نہیں اگر ثابت نہیں تو کیوں یا اس میں کوئی اختلاف ہے ہر صورت مفصل مدلل بیان کریں؟
الجواب:-مذکورہ وقت کے لیے اذان دینا شرعا ثابت نہیں ہے لیکن اگر یہ گرد ہشت دور کرنے کی غرض سے اذان دی جائے تو گنجائش ہے جائز ہے-
📖 فاشرف الذي معي على الحائط فلم يرى شيئا فذكرت لابي فقال لو شعرت انك تلقي لهذا لم ارسلك ولكن اذ سمعت صوتا فناد بالصلاة فإنى سمعت ابا هريرة رضي الله عنه يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال ان الشيطان إذا نودي بالصلاة ولي وله حصاص...(صحيح مسلم: ١٦٧/١ رقم: ٣٨٩، الصلاة فضل الاذان وهدب الشيطان عند سماعه)
📖 الاذان في كونه سنة للفرائض فقط.... وليس لغير الصلوات الخمس والجمعة نحو السنن.... وكذا للمنذورة وصلاة.... ولافزاع....(الهندية:١١٠/١،كتاب الصلاة ،باب الثاني في الاذان، زكريا ديوبند)
📖 قد يسن الاذان لغير الصلاة قالوا: يسن للمهموم ان يامر غيره ان يؤذن في اذنه فإنه يزيل انهم كذا عن على رضي الله عنه ونقل الاحاديث الوارده في ذلك فراجعه....(شامي:٥٠/٢،كتاب الصلاة ،باب الاذان ،زكريا ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- شوہر کا انتقال ہو گیا ہے اور بیوی خود ہاٹ کی مریض ہے تو اس کو اطلاع فوراً دینے میں اندیشہ ہے عدم برداشت کا تو اس صورت کا حکم مطلوب ہے؟
- غیر مسلم کی بیماری پر اس کی طرف سے صدقہ کرنا جائز ہے؟
- تراویح کی آٹھ رکعت اور بیس رکعت دلائل کا جواب کیا ہیں؟
- نماز کے بعد دس بار سورۂ اخلاص پڑھنا حدیث سے ثابت ہے؟
- دیوالی میں گوشت، ہڈیاں اور دھلا ہوا پانی استعمال کرنے کی کیا حقیقت ہے؟