ایک شخص نے جلسہ بین السجدتین میں التحیت پڑھ لیا پھر یاد ایا اور لوٹا لیا تو کیا اس کے اوپر سجدہ سہو لازم ہوگا یا نہیں؟
الجواب:- جلسہ بینس السجدتین میں التحیت پڑھنا سجدہ میں تاخیر کا سبب بنے گا جو کہ فرض ہے اور فرض کو مؤخر کرنے سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے لہذا صورت مسؤلہ میں بھی تاخیر کی وجہ سے سجدہ سہو لازم ہوگا -واللہ اعلم۔
📖 📖 اكثر المشايخ على ان سجود السهو يجب بستة اشياء بتقديم ركن و بتاخير ركن وبتكرار ركن وبتغير واجب وبترك واجب وبترك سنة يضاف الى جميع صلاة -( تاتارخانیہ -٣٨٧/٢, رقم: ٢٧٥٢)
📖 📖 وحكم الواجب لزوم سجود السهو ينقص الصلاة بتركه سهوا او اعادتها بتركه عمدا -(طحطاوي على مراقي ، ص: ٢٤٧)
📖 📖 الاصل في هذا عن المتروك ثلاثة انواع فرض وسنة واجب وفي الثالث ان ترك عامدا لا كذا في التاتارخانيه وظاهر كلام الجم غفير انه لا يجب السجود في العمد وانما تجب الاعادة حبرا لنقصانه (الهنديه : ١٨٥/١ اتحاد)
مزید متعلقہ سوالات
- عورت دوسری شادی کرے تو جنت میں اسے کون سا شوہر ملے گا؟
- دوسرے کے برے عمل سے بیزاری کی دعا کیا ہے؟
- نام بدلنے سے بیماری دور ہونے کا عقیدہ کیسا ہے؟
- فرض نماز گھر میں تراویح کے ساتھ پڑھنا کیسا ہے؟
- سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بہت کثرت سے وائرل ہورہی ہے جس میں ایک شخص یہ کہ رہا ہے کہ نماز وتر میں دو رکعت کے بعد تشہد احادیث سے ثابت نہیں اور یہ بھی کہ رہا ہے کہ وتر کو مغرب کی طرح نہ پڑھو اس طرح آپ کی وتر کی نماز نہیں ہوتی دعاء قنوت کی جگہ فنوت نازلہ پڑھی جائے گی یہ شخص لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر؛رہا ہے برائے مہربانی ہم سب کی صحیح بات کی طرف رہنمائی فرمائیں۔