الجواب وبالله التوفيق: حافظہ عورت کا تراویح کی نماز میں عورتوں کی امامت کرنا مکروہِ تحریمی ہے، اس لیے کہ عورتوں کا جماعت میں شریک ہونا فتنہ کا سبب ہے؛ البتہ اگر کوئی حافظہ عورت اپنا قرآن یاد رکھنے کی غرض سے تراویح میں قرآن سنانا چاہے تو اس کے لیے اس بات کی گنجائش ہے کہ وہ اپنے گھر میں اپنے ہی گھر کی عورتوں کو تراویح میں قرآن سنائے اگر چہ یہ بھی خلافِ اولی ہے لیکن فی الجملہ اس کی گنجائش ہے بشرطیکہ اور کوئی فتنہ نہ ہو، اور ایسی صورت میں وہ صف کے درمیان میں کھڑے ہوکر امامت کرے گی۔ عورتوں کی جماعت کے بارے میں ائمہ اربعہ کی آراء: (١): شافعیہ اور حنابلہ نزدیک جائز ہے۔ (٢): مالکیہ کے نزدیک درست نہیں۔ (٣): حنفیہ کے نزدیک مکروہ ہے۔ مستفاد از (کفايت المفتي قديم، ١٤٣/٣، ط: دار الاشاعت کراچی) (فتاوى قاسمية، ٨/٤١٠، ط: الأشرفية ديوبند)

📖 عن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها أنها كانت تؤم النساء في شهر رمضان، فتقوم وسطا، قال محمد: لا يعجبنا أن تؤم المرأة، فإن فعلت قامت في وسط الصف مع النساء كما فعلت عائشة رضي الله عنها وهو قول أبي حنيفة رحمه الله. (كتاب الآثار/باب المرأة تؤم النساء، وكيف تجلس في الصلاة، ٢٠٨/١، رقم الحديث: ٢١٧، ط: كراچی)

📖 عن إبراهيم والشعبي، قالا: لا بأس أن تصلي المرأة بالنساء في شهر رمضان، تقوم في وسطهن. (مصنف عبدالرزاق/كتاب الصلاة/باب المرأة تؤم النساء، ١٤٠/٣، رقم الحديث: ٥٠٨٤، ط: المحلس العلمي)

📖 لا خير في جماعة النساء...الخ (المعجم الكبير للطبراني/باب العين/سالم ابن عمر، ٣١٧/١٢، ط: مكتبة إبن تيمية القاهرة)

مزید متعلقہ سوالات