الجواب وباللہ التوفیق:
سوالنامہ سے واضح ہے کہ صورت مسئولہ میں شوہر نے جو طلاق نامے پر دستخط کیے ہیں وہ بدرجہ مجبوری اور اکراہ کی صورت میں کیے ہیں اور اکراہ کی صورت میں دستخط کرنے سے بیوی کے اوپر کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ہے جیسا کہ شامی کی عبارت سے واضح ہے ہوتی ہے۔
قال الشامي وفي البحر : أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته، فكتب لا تطلق.
(الدر مع الرد:۴۴۰/۴ كتاب الطلاق ، مطلب في الاكراه على التوكيل بالطلاق والنكاح والعتاق زکریا )
نیز اس نے جو تحریر بعد میں اپنی زبان سے پڑھی ہے تو اس سے بھی کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی اس لیے کہ یہاں پر اس کا مقصود طلاق دینا نہیں تھا بلکہ صرف تحریر کی نقل و حکایت مقصودتھی جیسا کہ سوال نامہ سے واضح ہے۔ اور اشباہ کی عبارت سے واضح ہے۔
(مستفاد:چند اہم عصری مسائل۲۵۶/۱)
📖 ولو كتبت امرأتي طالق ، أو أنت طالق وقالت له اقرأ على فقرأ عليها لم يقع عليها لعدم قصده باللفظ (الأشباه والنظائر ۸۸/۱، القاعدة الاولى :لا ثواب الا بالنية، المكتبه اليوسفيه ديوبند الهند) فقط والله سبحانه وتعالى اعلم۔
مزید متعلقہ سوالات
- ایک بوڑھے آدمی نے اس رمضان المبارک کے مہینے میں ایک بھی روزہ نہیں رکھا اور نہیں آگے رکھنے کے امکانات ہیں ۔ انکی طرف سے گھر والے تمام روزو کا فدیہ دینا چاہتے ہیں ۔ اب معلوم یہ کرنا تھا کہ جو فدیہ کی رقم بنےگی اسکی تملیک کراکر وہ رقم اس شخص پر خرچ کرسکتے ہیں جو مستحق زکوٰۃ نہیں ہے
- زید نے عمرو کے پاس 15 تولہ سونا گروی میں رکھا ہے 15 تولہ سونا گروی میں رکھ کل 10 لاکھ روپے کا قرض لے رکھا ہے تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زید کے اوپر زکوۃ واجب ہے یا نہیں جو عمرو نے زید کو دس لاکھ روپے قرض دے رکھا ہے اور عمرو نے زید کے جو 15 تولہ سونا گروی رکھا ہے اس پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟
- سڑک پر نماز جنازہ ہو رہی ہے سڑک عام طور پر ناپاک ہوتی ہے تو نماز جنازہ چپل پہن کر پڑھیں گے؟ کیا شکل ہوگی واضح فرمائیں ؟
- کیمرے کی تصویر کشی کی اجرت حلال ہے یا نہیں؟
- مسجد کے لیے زمین وقف کی گئی ہے جس میں مسجد کے ساتھ ایک طرف وضو خانہ بنایا گیا اور وضو خانہ مصالح مسجد میں داخل ہے اور اس طرح مصالح مسجد بن جانے کے بعد چونکہ جماعت خانہ سے وضو خانہ کو خارج رکھا گیا ہے تو وضو خانہ کے اوپر مسجد بن جانے کے بعد امام و مؤذن کے لیے فیملی کواٹر بنانا جائز ہے یا نہیں؟