الجواب وباللہ التوفیق: سوالنامہ سے واضح ہے کہ صورت مسئولہ میں شوہر نے جو طلاق نامے پر دستخط کیے ہیں وہ بدرجہ مجبوری اور اکراہ کی صورت میں کیے ہیں اور اکراہ کی صورت میں دستخط کرنے سے بیوی کے اوپر کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ہے جیسا کہ شامی کی عبارت سے واضح ہے ہوتی ہے۔ قال الشامي وفي البحر : أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته، فكتب لا تطلق. (الدر مع الرد:۴۴۰/۴ كتاب الطلاق ، مطلب في الاكراه على التوكيل بالطلاق والنكاح والعتاق زکریا ) نیز اس نے جو تحریر بعد میں اپنی زبان سے پڑھی ہے تو اس سے بھی کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی اس لیے کہ یہاں پر اس کا مقصود طلاق دینا نہیں تھا بلکہ صرف تحریر کی نقل و حکایت مقصودتھی جیسا کہ سوال نامہ سے واضح ہے۔ اور اشباہ کی عبارت سے واضح ہے۔ (مستفاد:چند اہم عصری مسائل۲۵۶/۱)

📖 ولو كتبت امرأتي طالق ، أو أنت طالق وقالت له اقرأ على فقرأ عليها لم يقع عليها لعدم قصده باللفظ (الأشباه والنظائر ۸۸/۱، القاعدة الاولى :لا ثواب الا بالنية، المكتبه اليوسفيه ديوبند الهند) فقط والله سبحانه وتعالى اعلم۔

مزید متعلقہ سوالات