الجواب وباللّه التوفيق= ١- واضح رہے کہ کویٔ بھی کمپنی اپنے مزدور کو جو تنخواہ دیتی ہے وہ در حقیقت مزدوری کی اجرت دیتی ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص کمپنی میں چھٹی کرتا ہے تو مالک کو شرعاً یہ اختیار ہیکہ وہ أیام غیر حاضری کی تنخواہ کاٹ لے، لیکن مالک کے لیے یہ درست نہیں ہے کہ وہ غیر حاضری پر اتنی زیادہ تنخواہ کاٹے جس سے مزدور کو حرج ہو، یہ ظلم ہے، ٢- مالک کے لیے یہ ہرگز جایز نہیں ہے کہ وہ صرف بغرض خود مزدور کی دس یوم کی تنخواہ نہ دے، یہ عمل شرعاً و اخلاقاً درست نہیں ہے، قرآن و احادیث نے اس کی سخت مذمت کی ہے، بروز قیامت یہ روکی ہویٔ تنخواہ اعمالِ صالحہ کے ذریعہ ادا کرنا ہوگی- لھذا مالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان تمام مزدور کی تنخواہ لوٹا دے جس – جس کی تنخواہ اب تک نہیں دی ہے، اور کمپنی کو نقصان سے بچانے کے لیے جایز و عدل وانصاف پر مبنی قانون بناییں،۔ نیز أیام غیر حاضری کی جو تنخواہ ہے صرف وہی کاٹے، اور مزدوروں کے ساتھ آسانی وحسنِ سلوک کرے؛ فقط والّله سبحانه وتعالى أعلم بالصّواب

📖 قال اللّه تعالى:وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ( سورۃ الأعراف : ٨٥)

📖 عن عبدالله بن عمر قال: قال رسول الله صلى عليه وسلم: أعطوا الأجير أجره، قبل أن يجف عرقه. (سنن ابن ماجة/كتاب الرهون/باب أجر الأجراء، ٨١٧/١، رقم الحديث: ٢٤٤٣، ط: بيروت)

مزید متعلقہ سوالات