الجواب وبالله التوفيق: سوالِ مذکور میں ان پیسوں کو مرحوم کی شرط کے مطابق مسجد میں صرف کرنا لازم ہے، مدرسہ میں خرچ کرنا جائز نہیں ہے۔
📖 أما الوصية لمسجد كذا أو قنطرة كذا، صرف إلى عمارته وإصلاحه. (بزازية/كتاب الوصايا، ٢٦٢/٣، ط: زكريا)
📖 اتفق الفقهاء على هذه العبارة وهي أن شرط الواقف كنص الشارع. (الفقه الإسلامي وأدلته/الباب الخامس: الوقف/المبحث الأول: شروط الوقف، ١٧٨/٨، ط: دار الفكر)
📖 صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة. (شامي/مطلب: مراعاة غرض الواقفين واجبة، ٦٦٥/٦، ط: دار عالم الكتب الرياض) فقط والله سبحانه وتعالى أعلم.
مزید متعلقہ سوالات
- ایک بوڑھے آدمی نے اس رمضان المبارک کے مہینے میں ایک بھی روزہ نہیں رکھا اور نہیں آگے رکھنے کے امکانات ہیں ۔ انکی طرف سے گھر والے تمام روزو کا فدیہ دینا چاہتے ہیں ۔ اب معلوم یہ کرنا تھا کہ جو فدیہ کی رقم بنےگی اسکی تملیک کراکر وہ رقم اس شخص پر خرچ کرسکتے ہیں جو مستحق زکوٰۃ نہیں ہے
- زید نے عمرو کے پاس 15 تولہ سونا گروی میں رکھا ہے 15 تولہ سونا گروی میں رکھ کل 10 لاکھ روپے کا قرض لے رکھا ہے تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زید کے اوپر زکوۃ واجب ہے یا نہیں جو عمرو نے زید کو دس لاکھ روپے قرض دے رکھا ہے اور عمرو نے زید کے جو 15 تولہ سونا گروی رکھا ہے اس پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟
- سڑک پر نماز جنازہ ہو رہی ہے سڑک عام طور پر ناپاک ہوتی ہے تو نماز جنازہ چپل پہن کر پڑھیں گے؟ کیا شکل ہوگی واضح فرمائیں ؟
- کیمرے کی تصویر کشی کی اجرت حلال ہے یا نہیں؟
- مسجد کے لیے زمین وقف کی گئی ہے جس میں مسجد کے ساتھ ایک طرف وضو خانہ بنایا گیا اور وضو خانہ مصالح مسجد میں داخل ہے اور اس طرح مصالح مسجد بن جانے کے بعد چونکہ جماعت خانہ سے وضو خانہ کو خارج رکھا گیا ہے تو وضو خانہ کے اوپر مسجد بن جانے کے بعد امام و مؤذن کے لیے فیملی کواٹر بنانا جائز ہے یا نہیں؟