الجواب باللہ التوفیق :سوال میں جن اعمال کا تذکرہ کیا گیا ہے تو ان کو مسلمان اس لیے کرتے ہیں اور ان کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ اس عمل کی وجہ سے گھروں میں جادو، ٹونا ، آسیب وغیرہ کے اثرات نہ ہوں تو ایسے اعمال کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ہے بظاہر یہ برادران وطن کے فاسد عقائد و توہمات میں شامل ہیں ، اس لیے مسلمانوں کو ایسی مشکوک باتوں سے احتراز کرنا چاہیے۔ ( مستفاد: نخبۃ المسائل۶۲/۱)

📖 عن أبي هريرة رضي الله عنه يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:لا عدوى ولا طيرة ولا هامة ولا صفر الخ. (صحيح البخاري ٨٥٠/٢ رقم: ٥٤٨٨)

📖 قال عبد الله بن أبي بكر حسبت أنه صلى الله عليه وسلم قال: والناس في مبيتهم لا تبقين في رقبة بعير قلادة من وتر ولا قلادة إلا قطعت، قال مالك أرى أن ذلك من أجل العين. (سنن أبي داؤد، كتاب الجهاد / باب في تقليد الخيل بالأوتار ٣٤٦/١ رقم: (٢٥٥٢)

مزید متعلقہ سوالات