بغیر نیت کے سفر کرنے والے کے لیے قصر اور اتمام کا حکم
الجواب:-تو اس صورت میں مسافر نہیں ہے کیونکہ نیت ضروری ہے مسافر کے لیے مسافر اسی وقت سے سمجھا جائے گا کہ جب وہ سفر کے نیت سے گھر سے نکالے،ح تو اس کا حکم وہ اتمام کرے گا قصر نہیں-
📖 ولا بدَّ للمسافر من قصدِ مسافةٍ مقدَّرةٍ بثلاثةِ أيامٍ حتى يترخَّص برُخَصِ المسافرين، وإلا فلا يترخَّص أبدًا...(الفتاوى الهندية، 1/199، كتاب الصلاة، مكتبة زكريا، ديوبند)
📖 وإلا فلا، قاصدًا ولو كافرًا، ومن طاف الدنيا بلا قصدٍ لم يقصر... (رد المحتار على الدر المختار، 2/601، كتاب الصلاة، مكتبة زكريا، ديوبند)
📖 لأنَّ السفرَ فعلٌ، فلا يوجدُ بمجرَّدِ النية، فيُشترطُ اقترانُ النيةِ بأدنى فعلٍ... (فتاوى قاضي خان، 1/103، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، مكتبة زكريا، ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- مسافر امام نے قصر کے بجائے چار رکعت پڑھا دیں تو بعد میں یاد آنے پر کیا کرے؟
- میت کو قرآن خوانی کا ثواب پہنچانا صحیح حدیث سے ثابت ہے؟
- مسجد کی زائد چٹائیاں اور قالین فروخت کرکے رقم مسجد کی ضروریات میں خرچ کرنا جائز ہے؟
- نجاست حقیقہ کی پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
- ایک صاحب کے دو بچے دو لڑکے دوسرے صاحب کا ایک لڑکا یہ دونوں آدمی یہ چاہتے ہیں کہ بڑے جانور ان بچوں کی طرف سے ذبح کیا جائے تو اس کی کیا شکل ہوگی جب کہ ہر بچہ کی طرف سے الگ جانور ذبح طے ہو رہا ہے اگر حصہ داری کا اعتبار کرتے ہیں تو ہر بچہ کی طرف سے دو دو حصے ہو جاتے ہیں تو ایک حصہ بچ جاتا ہے تو اس ایک حصہ کے بارے میں کیا کیا جائے؟