الجواب وبالله التوفيق: بلا ضرورت خواہ مخواہ حیلہ کرنا ممنوع ہے، اس لیے کہ فدیہ کے مصارف متعین ہیں، حیلہ کے بعد جو اصل مستحقین ہیں وہ عملاً محروم ہوجاتے ہیں، اس لیے حیلہ کی صورت انتہائی مجبوری میں اختیار کرنی چاہیے؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں جب مذکورہ شخص مستحق ہی نہیں ہے تو اس کے لیے خواہ مخواہ حیلہ نہیں کرنا چاہیے۔
📖 📖 📖 مستفاد از: (حاشيه فتاوى دار العلوم ديوبند، ١٩٩/٦، ط: مكتبه دار العلوم ديوبند) (فتاوى فلاحيه، ٤٧٤/٣، ط: گجرات)
📖 📖 📖 دلیل: (١): أن كل حيلة يحتال بها الرجل لإبطال حق الغير أو لإدخال شبهة فيه أو لتمويه باطل فهي مكروهة. (الفتاوى الهندية/كتاب الحيل/الفصل الأول، ٤٤٣/٦، ط: دار الكتب العلمية بيروت)
مزید متعلقہ سوالات
- زید نے عمرو کے پاس 15 تولہ سونا گروی میں رکھا ہے 15 تولہ سونا گروی میں رکھ کل 10 لاکھ روپے کا قرض لے رکھا ہے تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زید کے اوپر زکوۃ واجب ہے یا نہیں جو عمرو نے زید کو دس لاکھ روپے قرض دے رکھا ہے اور عمرو نے زید کے جو 15 تولہ سونا گروی رکھا ہے اس پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟
- سڑک پر نماز جنازہ ہو رہی ہے سڑک عام طور پر ناپاک ہوتی ہے تو نماز جنازہ چپل پہن کر پڑھیں گے؟ کیا شکل ہوگی واضح فرمائیں ؟
- کیمرے کی تصویر کشی کی اجرت حلال ہے یا نہیں؟
- مسجد کے لیے زمین وقف کی گئی ہے جس میں مسجد کے ساتھ ایک طرف وضو خانہ بنایا گیا اور وضو خانہ مصالح مسجد میں داخل ہے اور اس طرح مصالح مسجد بن جانے کے بعد چونکہ جماعت خانہ سے وضو خانہ کو خارج رکھا گیا ہے تو وضو خانہ کے اوپر مسجد بن جانے کے بعد امام و مؤذن کے لیے فیملی کواٹر بنانا جائز ہے یا نہیں؟
- عورت ہاف آستین کے لیے چمپر پہنتی ہیں اور نماز کے لیے بڑا دوپٹہ رکھتی ہے تو چادر کی طرح ہاف آستین کے اوپر دوپٹہ اوڑھنے سے عورتوں کی نماز درست ہو جائے گی یا نہیں؟