ایک بوڑھے آدمی نے اس رمضان المبارک کے مہینے میں ایک بھی روزہ نہیں رکھا اور نہیں آگے رکھنے کے امکانات ہیں ۔ انکی طرف سے گھر والے تمام روزو کا فدیہ دینا چاہتے ہیں ۔ اب معلوم یہ کرنا تھا کہ جو فدیہ کی رقم بنےگی اسکی تملیک کراکر وہ رقم اس شخص پر خرچ کرسکتے ہیں جو مستحق زکوٰۃ نہیں ہے
الجواب وبالله التوفيق: بلا ضرورت خواہ مخواہ حیلہ کرنا ممنوع ہے، اس لیے کہ فدیہ کے مصارف متعین ہیں، حیلہ کے بعد جو اصل مستحقین ہیں وہ عملاً محروم ہوجاتے ہیں، اس لیے حیلہ کی صورت انتہائی مجبوری میں اختیار کرنی چاہیے؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں جب مذکورہ شخص مستحق ہی نہیں ہے تو اس کے لیے خواہ مخواہ حیلہ نہیں کرنا چاہیے۔
📖 📖 📖 مستفاد از: (حاشيه فتاوى دار العلوم ديوبند، ١٩٩/٦، ط: مكتبه دار العلوم ديوبند) (فتاوى فلاحيه، ٤٧٤/٣، ط: گجرات)
📖 📖 📖 دلیل: (١): أن كل حيلة يحتال بها الرجل لإبطال حق الغير أو لإدخال شبهة فيه أو لتمويه باطل فهي مكروهة. (الفتاوى الهندية/كتاب الحيل/الفصل الأول، ٤٤٣/٦، ط: دار الكتب العلمية بيروت)