ایک صاحب کے دو بچے دو لڑکے دوسرے صاحب کا ایک لڑکا یہ دونوں آدمی یہ چاہتے ہیں کہ بڑے جانور ان بچوں کی طرف سے ذبح کیا جائے تو اس کی کیا شکل ہوگی جب کہ ہر بچہ کی طرف سے الگ جانور ذبح طے ہو رہا ہے اگر حصہ داری کا اعتبار کرتے ہیں تو ہر بچہ کی طرف سے دو دو حصے ہو جاتے ہیں تو ایک حصہ بچ جاتا ہے تو اس ایک حصہ کے بارے میں کیا کیا جائے؟

الجواب و باللہ التوفیق:-صورت مسئولہ میں ہر ایک بچہ کی طرف سے تین حصے اور باقی سب بچوں کی طرف سے دو دو حصے ہو جائیں گے اور اس طریقے سے زائد حصہ-

📖 «وَالْجُمْهُورُ عَلَى إِجْزَاءِ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ أَيْضًا، وَفِيهِ حَدِيثٌ عَنِ الطَّبَرَانِيِّ وَأَبِي الشَّيْخِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، رَفَعَهُ: «يُعَقُّ عَنْهُ مِنَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ» ... إِلَى قَوْلِهِ: «إِنَّهَا تُجْزِئُ بِالسُّبْعِ كَمَا فِي الْأُضْحِيَّةِ». حوالہ: فتح الباري، كتاب العقيقة، باب إماطة الأذى عن الصبي في العقيقة، ج9، ص440، ط: أشرفية، ديوبند۔

📖 «لَوْ كَانَتِ الْبَدَنَةُ أَوِ الْبَقَرَةُ بَيْنَ اثْنَيْنِ، فَضَحَّيَا بِهَا، اخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِيهِ، وَالْمُخْتَارُ أَنَّهُ يَجُوزُ».حوالہ: الفتاوى الهندية، الباب الثامن في الشركة في الضحايا، ج5، ص303، ط: الجديد؛ البحر الرائق، ج8، ص174۔