کیمرہ سے تصویر کشی کی اجرت حلال ہے یا نہیں؟
جواب: کیمرے سے تصویر کشی کی اجرت حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت امام کرخی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حلال ہے، جبکہ صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک مکروہ ہے۔ تاہم فتویٰ حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت امام کرخی رحمۃ اللہ علیہ کے قول پر ہے۔ حوالہ: قاسمیہ، ۲۴/۵۷۰۔
📖 لو أجر دابته لينقل عليها إلى آخر، أو أجر نفسه ليرعى له الخنازير، يطيب له الأجر عنده، وعندهما يكره. (رد المحتار على الدر المختار، 9/562، مكتبة زكريا، ديوبند)
📖 ورجلٌ اقتبس مالًا من حرام، ثم اشترى، فهذا على خمسة أوجه: إذا أنفق تلك الدراهم إلى البائع أولًا، ثم اشترى فيه بها، أو اشترى قبل الإنفاق بها وأنفقها، أو اشترى قبل الإنفاق بها وأنفق غيرها، أو اشترى مطلقًا وأنفق تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أُخر وأنفق تلك الدراهم. قال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثالث والرابع يطيب. وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعًا للحرج عن الناس. (رد المحتار على الدر المختار، 7/490، كتاب ...، مكتبة زكريا، ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- مسافر امام نے قصر کے بجائے چار رکعت پڑھا دیں تو بعد میں یاد آنے پر کیا کرے؟
- میت کو قرآن خوانی کا ثواب پہنچانا صحیح حدیث سے ثابت ہے؟
- مسجد کی زائد چٹائیاں اور قالین فروخت کرکے رقم مسجد کی ضروریات میں خرچ کرنا جائز ہے؟
- نجاست حقیقہ کی پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
- ایک صاحب کے دو بچے دو لڑکے دوسرے صاحب کا ایک لڑکا یہ دونوں آدمی یہ چاہتے ہیں کہ بڑے جانور ان بچوں کی طرف سے ذبح کیا جائے تو اس کی کیا شکل ہوگی جب کہ ہر بچہ کی طرف سے الگ جانور ذبح طے ہو رہا ہے اگر حصہ داری کا اعتبار کرتے ہیں تو ہر بچہ کی طرف سے دو دو حصے ہو جاتے ہیں تو ایک حصہ بچ جاتا ہے تو اس ایک حصہ کے بارے میں کیا کیا جائے؟