چار رکعت سنت میں سورۂ ناس کے بعد کون سی سورتیں پڑھیں؟
الجواب وبا اللہ التوفیق اگر فرض نماز کی پہلی رکعت میں بھولے سے سورہ ناس پڑھ لی تو دوسری رکعت میں بھی سورہ ناس پڑھ لے اور اگر سنن و نوافل کی پہلی رکعت میں بھولے سے سورہ ناس پڑھ لی تو بقیہ رکعتوں میں اختیار ہے کوئ اور سورۃ بھی پڑھ سکتاہے البتہ بہتر یہ ہیکہ بقیہ رکعتوں میں بھی سورہ ناس پڑھ کر نماز کو مکمل کر لے
📖 وَإِذَا قَرَأَ فِي الْأُولَى ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ يَقْرَأُ فِي الثَّانِيَةِ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ أَيْضًا، وَعَلَى هَذَا قِرَاءَةُ الْآيَاتِ، إِذَا قَرَأَ فِي الْأُولَى آيَةً، فَإِنَّهُ يُكْرَهُ أَنْ يَقْرَأَ فِي الْأُخْرَى آيَةً مِنْ سُورَةٍ فَوْقَهَا. حوالہ: الجوهر النيرة، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ج 1، ص 58، ط: المطبعة الخيرية؛ الدر المختار شرح تنوير الأبصار، ج 1، ص 546–547۔
📖 «وَأَنْ يَقْرَأَ مَنْكُوسًا ... وَلَا يُكْرَهُ فِي النَّفْلِ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ». «لَا بَأْسَ أَنْ يَقْرَأَ سُورَةً وَيُعِيدَهَا فِي الثَّانِيَةِ». حوالہ: الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، فصل في القراءة، ج 2، ص 268، ط: مكتبة زكريا ديوبند؛ وج 3، ص 480، ط: الفرفور، دمشق۔