الجواب وبا اللہ التوفیق اگر فرض نماز کی پہلی رکعت میں بھولے سے سورہ ناس پڑھ لی تو دوسری رکعت میں بھی سورہ ناس پڑھ لے اور اگر سنن و نوافل کی پہلی رکعت میں بھولے سے سورہ ناس پڑھ لی تو بقیہ رکعتوں میں اختیار ہے کوئ اور سورۃ بھی پڑھ سکتاہے البتہ بہتر یہ ہیکہ بقیہ رکعتوں میں بھی سورہ ناس پڑھ کر نماز کو مکمل کر لے

📖 وإذا قرأ في الأولى قل أعوذ برب الناس ‌يقرأ ‌في ‌الثانية قل أعوذ برب الناس أيضا وعلى هذا قراءة الآيات إذا قرأ في الأولى آية فإنه يكره أن يقرأ في الأخرى آية من سورة فوقها." الجوہر النیرہ (كتاب الصلوة ،باب صفة الصلوة،ج:1،ص:58 ،ط:المطبعة الخيرية) الدر المختار شرح تنوير الأبصار (1/ 546.547):

📖 "و أن يقرأ منكوساً ... و لايكره في النفل شيء من ذلك". لا بأس أن یقرأ سورة ویعیدھا في الثانیة (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، فصل فی القراء ة، ۲: ۲۶۸، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۳: ۴۸۰، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔

مزید متعلقہ سوالات