دوسرے کے برے عمل سے بیزاری کی دعا کیا ہے؟
لجواب و باللہ التوفیق کسی کے عمل سے بیزاری کا اظہار کرتے وقت درج ذیل دعا پڑھنا ثابت ہے: اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ فُلَانُ . (صحیح بخاری ۹۳۸/۲، كتاب الدعوات، باب رفع الايدي في الدعاء، رقم:۶۳۴۱) ترجمہ : اے اللہ ! میں تیری بارگاہ میں فلاں کے عمل سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں۔ نوٹ : فلاں کی جگہ جس کے عمل سے براءت کی جارہی ہے ، اس کا نام لیا جائے۔ فقط والله سبحانه وتعالى اعلم۔
📖 «اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ»صحیح البخاری، كتاب الدعوات، باب رفع الأيدي في الدعاء، حدیث: 6341۔
مزید متعلقہ سوالات
- عورت دوسری شادی کرے تو جنت میں اسے کون سا شوہر ملے گا؟
- نام بدلنے سے بیماری دور ہونے کا عقیدہ کیسا ہے؟
- فرض نماز گھر میں تراویح کے ساتھ پڑھنا کیسا ہے؟
- سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بہت کثرت سے وائرل ہورہی ہے جس میں ایک شخص یہ کہ رہا ہے کہ نماز وتر میں دو رکعت کے بعد تشہد احادیث سے ثابت نہیں اور یہ بھی کہ رہا ہے کہ وتر کو مغرب کی طرح نہ پڑھو اس طرح آپ کی وتر کی نماز نہیں ہوتی دعاء قنوت کی جگہ فنوت نازلہ پڑھی جائے گی یہ شخص لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر؛رہا ہے برائے مہربانی ہم سب کی صحیح بات کی طرف رہنمائی فرمائیں۔
- نیم کے پتوں میں پکے ہوئے پانی سے وضو کرنا درست ہے یا نہیں ؟