جواب:-اگر اونی موزہ اتنا موٹا اور دبیز ہو کہ اسے پہن کر تقریباً پانچ کلومیٹر تک بآسانی چلا جا سکے، اور وہ بغیر کسی سہارے کے خود بخود پاؤں پر قائم رہے، نیز اسے پہننے کے بعد پاؤں کے اندرونی حصے کی تری یا پانی باہر سے اندر تک نہ پہنچ سکے، تو ایسے موزے پر مسح کرنا درست ہے۔ لہٰذا اگر انگلینڈ کے موزے میں مذکورہ تمام شرائط پائی جائیں تو اس پر بھی مسح کرنا شرعاً درست ہوگا۔

📖 عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ مَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ. حوالہ: جامع الترمذي، أبواب الطهارة، باب ما جاء في المسح على الجوربين والنعلين، 1/290 (دار السلام)؛ سنن أبي داود، كتاب الطهارة، باب المسح على الجوربين، 1/96 (دار السلام)۔

📖 حُكِيَ أَنَّ أَبَا حَنِيفَةَ مَسَحَ عَلَى جَوْرَبَيْهِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَقَالَ لِعُوَّادِهِ: فَعَلْتُ مَا كُنْتُ أَمْنَعُ النَّاسَ عَنْهُ، وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى. حوالہ: الفتاوى التاتارخانية، الفصل السادس في المسح على الخفين، 1/407، رقم: 968.

مزید متعلقہ سوالات