غیر مسلم کے دیے ہوئے پاپڑ، گوجیا اور مٹھائی کھانا جائز ہے؟

الجواب وباللہ التوفق: اگر اس بات کا یقین ہو کہ غیر مسلموں نے مٹھائی وغیرہ اپنے معبودان باطلہ کے نام نہیں چڑھائی ہوگی اور اس میں کسی طرح کی حرام اجزاء کی آمیزش نہیں ہوگی تو غیر مسلموں کی تہوار پر ملنے والی مٹھائی کھانا جائز ہے لیکن جہاں تک ہو سکے اجتناب کیا جائے۔

📖 وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ، طَعَامُهُمْ هُنَا هِيَ الذَّبَائِحُ، كَذَا قَالَ مُعْظَمُ أَهْلِ التَّفْسِيرِ. قَالُوا: لِأَنَّ مَا كَانَ مِنْ نَوْعِ الْبُرِّ وَالْخُبْزِ وَالْفَاكِهَةِ، وَمَا لَا يَحْتَاجُ فِيهِ إِلَى ذَكَاةٍ، لَا يَخْتَلِفُ فِي حِلِّهَا بِاخْتِلَافِ حَالِ أَحَدٍ؛ لِأَنَّهَا لَا تَحْرُمُ بِوَجْهٍ، سَوَاءٌ كَانَ الْمُبَاشِرُ لَهَا كِتَابِيًّا، أَوْ مَجُوسِيًّا، أَمْ غَيْرَ ذَلِكَ، وَأَنَّهَا لَا يَبْقَى لِتَخْصِيصِهَا بِأَهْلِ الْكِتَابِ فَائِدَةٌ.حوالہ:البحر المحيط في التفسير، ج 4، ص 182، تفسير سورة المائدة، الآية: 5، ط: دار الفكر، بيروت۔