👁دیکھنے والوں کی تعداد:4

کن صورتوں میں روزہ قضاء لازم ہوتی ہے اور کن صورتوں میں کفارہ ؟براہ کرم تفصیل سے بتائیں

الجواب وبالله التوفيق: اگر کوئی شخص بلا عذر شرعی رمضان کا فرض روزہ نہ رکھے تو اس کے لیے توبہ کرنا لازم ہے اور اس کے بدلے ایک ہی دن کے روزے کے قضاء لازم ہوگی اس پر کفارہ لازم نہیں ہے رمضان میں روزہ دار مقیم مکلف آدمی نے ادائےروزہ رمضان کی نیت سے روزہ رکھا پھر جان بوجھ کر بلا کسی عذر شرعی کے کوئی غذا یا نفع بخش دواء پی کر یا جماع کر کے روزہ فاسد کر دے تو اس پر قضاء اور کفارہ دونوں لازم ہوتے ہیں فقط والله اعلم

📖 وَمَنْ جَامَعَ فِي أَحَدِ السَّبِيلَيْنِ عَامِدًا، فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ وَالْكَفَّارَةُ، وَلَوْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ مَا يَتَغَذَّى بِهِ أَوْ يَتَدَاوَى، فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ وَالْكَفَّارَةُ. حوالہ جات: ١. الهداية، ج ١، ص ٢١٩۔ ٢. الفتاوى الهندية، ج ١، ص ٢٠٥-٢٠٦۔ ٣. البحر الرائق، ج ٢، ص ٢٧٦۔ ٤. الفتاوى التاتارخانية، ج ٣، ص ٣٨٩۔ ٥. مراقي الفلاح، ص ٣٦٣۔

یہ مسئلہ دوسروں تک پہنچائیں