حافظ قران رمضان کے اخری عشرہ کے اعتکاف میں بیٹھ گیا اور وہ دوسری مسجد میں قران سناتا ہے یا گھر یا حال میں قران سناتا ہے تو قران سنانے کے لیے دوسری مسجد یا گھر یا ہال میں جا سکتا ہے یا نہیں اگر جائے تو ان کا اعتکاف ہو جائے گا ؟
الجواب وباللہ التوفیق:- حافظ قران اعتکاف میں بیٹھتے وقت ہی دوسری مسجد یا ہال میں قران سنانے کے لیے جانے کی نیت کرے تو اس کے لیے دوران اعتکاف دوسری مسجد میں جانا جائز ہوگا لیکن اس مسنون اعتکاف ختم ہو جائے گا۔(قاسمیہ :٥٦٣/١١ دارالعلوم زکریا ٥١٢/٦, نوازل)
📖 ولو شرط وقت النظر والالتزام ان يخرج الى عيادة المريض وصلاة الجنازة و حضور مجلس الاعلى يجوز ذلك (تاتارخانية ٤٤٥/٣ رقم: ٤٨٠٨ زكريا/هنديه جديد: ٢٧٦/١)در مختار:٤٣٩/٣
مزید متعلقہ سوالات
- نکاح کے لیے اسلام قبول کرنے والے شخص کا نکاح صحیح ہوگا؟
- کیا خودکشی کرنے والے کی روح معلق رہتی ہے؟
- قعدۂ اخیرہ چھوڑ کر پانچویں رکعت کا سجدہ کرنے سے نماز صحیح ہوگی؟
- ایک شخص پر ٥ رمضان میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے ۵ رمضان میں وہ دو لاکھ کا مالک ہے اس کے بعد اس کے پاس مال میں اور اضافہ ہوا تقریباً دس لاکھ کا مالک ہوگیا اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس اضافی رقم کی زکوۃ کب نکالی جائے گی ؟
- چھ گھنٹے کی ڈیوٹی کی تنخواہ چار گھنٹے کام کرکے لینا شرعاً جائز ہے؟