ہاتھ پیر کٹے ہوئے لوگ مصنعی ہاتھ پیر لگاتے ہیں تو وضو اور غسل میں ان کو دھونا اور نہ دھونے کے سلسلے میں کیا حکم ہے خود مصنوعی ہاتھ پیر کو دھونے کی ضرورت ہے یا نہیں اگر دوسرا ہاتھ یا پھر صحیح ہے تو اس کو دھونا کافی ہو جائے گا یا نہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:- جو ہاتھ پیر کٹ جائے تو وضو اور غسل میں ان کا ہونا ضروری نہیں کیونکہ جب محل فوت ہو جائے تو حکم بھی ساقط ہو جاتا ہے لہذا مسکرا صورت میں مصنوعی ہاتھ پیروں کو دھونا ضروری نہیں ہے البتہ جو ہاتھ صحیح سالم ہے ان کا دھونا ضروری ہے اور ان کے دھونے سے وضو اور غسل ہو جائے گا، تفصیل: عضو اگر محل فرض سے اوپر کٹ جائے تو دھونا ضروری نہیں اگر محلے فرض سے بچہ کٹا ہوا ہے تو مصنوعی عضو کو الگ کرنا ممکن ہو تو اس کو الگ کر کے بقیہ فرض کے حصہ کو دونوں ضروری ہوگا کسی بھی طرح۔
📖 ولو قطعت رجليه من الكعب او باقي نصف من الكعب يفترض عليه غسل ما بقي من او مصنع القطع وكذا هذا الحكم في موقف وبقي نصف الرفق يفترض عليه غسل ما بقي من الموفق او مصنع القطع وان كان القطع فوق الكعبه او فوق الرفق لا يجب غسل موضوع للقطع ( تاتارخانية ٢٠٥/١ رقم: ٤٢, المحيط البرهانى ٦٧/١)
📖 ولو قطعت يده او رجليه فلم يبقى من المرفق والكعب شيء سقط الغسل ولو بقي وجب كذا. (هنديه جديد: ٥٤/١ كتاب الطاهرة، باب الاول)
مزید متعلقہ سوالات
- مسافر امام نے قصر کے بجائے چار رکعت پڑھا دیں تو بعد میں یاد آنے پر کیا کرے؟
- میت کو قرآن خوانی کا ثواب پہنچانا صحیح حدیث سے ثابت ہے؟
- مسجد کی زائد چٹائیاں اور قالین فروخت کرکے رقم مسجد کی ضروریات میں خرچ کرنا جائز ہے؟
- نجاست حقیقہ کی پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
- ایک صاحب کے دو بچے دو لڑکے دوسرے صاحب کا ایک لڑکا یہ دونوں آدمی یہ چاہتے ہیں کہ بڑے جانور ان بچوں کی طرف سے ذبح کیا جائے تو اس کی کیا شکل ہوگی جب کہ ہر بچہ کی طرف سے الگ جانور ذبح طے ہو رہا ہے اگر حصہ داری کا اعتبار کرتے ہیں تو ہر بچہ کی طرف سے دو دو حصے ہو جاتے ہیں تو ایک حصہ بچ جاتا ہے تو اس ایک حصہ کے بارے میں کیا کیا جائے؟