الجواب و باللہ التوفیق: مذکورہ ویڈیو میں موصوف نے دو باتیں کی ہیں: نمبر: ١. وتر کی دوسری رکعت میں تشہد میں بیٹھنا سنت نہیں ہے بلکہ سیدھا تیسری رکعت میں کھڑا ہونا سنت ہے، نمبر .٢ وتر میں قنوت نازلہ پڑھنا نبی علیہ السلام سے ثابت ہے نہ کہ دعاۓ قنوت۔ پہلی بات کی دلیل دیتے ہوئے موصوف نے مستدرک حاکم کی روایت پیش کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں لا توتروا بثلاث تشبهوا بصلاة المغرب ولكن اوتروا بخمس او بسبع او بتسع او باحدى عشرة ركعة او اكثر من ذلك مذکورہ حدیث سے موصوف نے یہ استدلال کیا ہے کہ وتر کی نماز میں دو رکعت کے بعد تشہد میں بیٹھنے سے اس حدیث میں منع کیا گیا ہے کیونکہ مغرب کی نماز میں تشہد میں بیٹھا جاتا ہے اور مغرب کی طرح وتر پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، تو اس حدیث سے یہ استدلال کرنا درست نہیں ہے کیونکہ مکمل حدیث پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں تعدادِ رکعات کے اندر مغرب کی مشابہت سے منع کیا گیا ہے تشہد کے اندر بیٹھنے سے منع نہیں کیا گیا ہے کیونکہ اگے حدیث میں ہے کہ پانچ رکعت وتر پڑھو یا سات رکعت یا نو رکعت یا گیارہ رکعت یا اس سے زیادہ( یعنی چونکہ مغرب سے پہلے نفل نماز نہیں ہے اس جہت سے وتر کو مغرب کے مشابہ نہ کرو یعنی تین رکعت پر اکتفا نہ کرو بلکہ دو یا چار رکعت اس سے پہلے نفل بھی پڑھ لیا کرو) اور اس مطلب کی تائید مصنف ابن ابی شیبہ میں موجود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے وہ فرماتی ہیں کہ تنہا تین رکعت وتر نہ پڑھو بلکہ اس سے پہلے دو رکعت یا چار رکعت نفل بھی پڑھ لیا کرو، اور موصوف کا دوسرا دعویٰ کہ وتر کے اندر قنوتِ نازلہ پڑھنا ہی سنت ہے نہ کہ دعائے قنوت یہ بھی حدیث کے خلاف ہے کیونکہ حدیث کے اندر وتر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بھی ثبوت ملتا ہے…
📖 عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: لا توتروا بثلاث تشبهوا بصلاة المغرب و لكن أوتروا بخمس أو بسبع أو بتسع أو بإحدى عشرة ركعة أو أكثر من ذلك (مستدرك للحكام: ج/١ ص/٤٣٧ رقم: ١١٣٨) عن عائشة قالت: لا توتر بثلاث بتر،صل قبلها ركعتين او اربعا (مصنف ابن ابی شیبہ: ج/٤ ص/ ٤٩٢ رقم: ٦٨٩٨)
📖 عن أبي عبد الرحمن، قال: علمنا ابن مسعود أن نقرأ في القنوت: اللّٰهم إنا نستعينك ونستغفرك، ونؤمن بك ونثني عليك الخير، ولانكفرك ونخلع ونترك من يفجرك، اللهم إياك نعبد، ولك نصلي، ونسجد، وإليك نسعى ونحفد، ونرجو رحمتك، ونخشى عذابك، إن عذابك الجد بالكفار ملحق (مصنف ابن ابی شیبہ:ج/٤ ص/٥١٨ رقم: ٦٩٦٥) والله اعلم بالصواب
مزید متعلقہ سوالات
- ایک بوڑھے آدمی نے اس رمضان المبارک کے مہینے میں ایک بھی روزہ نہیں رکھا اور نہیں آگے رکھنے کے امکانات ہیں ۔ انکی طرف سے گھر والے تمام روزو کا فدیہ دینا چاہتے ہیں ۔ اب معلوم یہ کرنا تھا کہ جو فدیہ کی رقم بنےگی اسکی تملیک کراکر وہ رقم اس شخص پر خرچ کرسکتے ہیں جو مستحق زکوٰۃ نہیں ہے
- زید نے عمرو کے پاس 15 تولہ سونا گروی میں رکھا ہے 15 تولہ سونا گروی میں رکھ کل 10 لاکھ روپے کا قرض لے رکھا ہے تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زید کے اوپر زکوۃ واجب ہے یا نہیں جو عمرو نے زید کو دس لاکھ روپے قرض دے رکھا ہے اور عمرو نے زید کے جو 15 تولہ سونا گروی رکھا ہے اس پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟
- سڑک پر نماز جنازہ ہو رہی ہے سڑک عام طور پر ناپاک ہوتی ہے تو نماز جنازہ چپل پہن کر پڑھیں گے؟ کیا شکل ہوگی واضح فرمائیں ؟
- کیمرے کی تصویر کشی کی اجرت حلال ہے یا نہیں؟
- مسجد کے لیے زمین وقف کی گئی ہے جس میں مسجد کے ساتھ ایک طرف وضو خانہ بنایا گیا اور وضو خانہ مصالح مسجد میں داخل ہے اور اس طرح مصالح مسجد بن جانے کے بعد چونکہ جماعت خانہ سے وضو خانہ کو خارج رکھا گیا ہے تو وضو خانہ کے اوپر مسجد بن جانے کے بعد امام و مؤذن کے لیے فیملی کواٹر بنانا جائز ہے یا نہیں؟