جواب و باللہ التوفیق:-روایت میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورہ اعلی اور سورہ غاشیہ کے علاوہ جمعہ کی نماز میں سورۃ جمعہ اور سورۃ المنافقون پڑھتے تھے اور کبھی سورہ جمعہ کے ساتھ سورۃ الاعلی اور سورۃ الغاشیہ اور کبھی سورۃ الطلاق تلاوت فرمایا کرتے تھے-
📖 عن عبد الله بن ابي رافع مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال استخلف مروان ابا هريرة على المدينة وحرج إلى مكة بنا ابو هريرة يوم الجمعة فقرا سورة الجمعة وفي السجدة الثانية إذا جاءك المنافقون قال عبد الله فادركت ابا هريرة فقلت لله تقرا بصورتين كان على بقرا بهما بالكوفة قال ابو هريرة إلى سميعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا بهما(ترمذي شريف:صفحه:١٣٧،رقم: ٥١٩،دار السلام)
📖 عن ابي طاؤوس عن ابيه ان النبي صلى الله عليه وسلم قرا في الجمعة بسورة الجمعة ويا ايها النبي اذا طلقتم النساء (مصنف عبد الرزاق: ٧٩/٣)
مزید متعلقہ سوالات
- طوفان،زلزلہ، بلا مصیبت کی وقت اذان دینا شرعا ثابت ہے یا نہیں اگر ثابت نہیں تو کیوں یا اس میں کوئی اختلاف ہے ہر صورت مفصل مدلل بیان کریں؟
- اگر کسی شخص نے پہلی رکعت میں بھول سے تین سجدہ کرلیا تو کیا حکم ہے؟
- تین سیزیرین کے بعد دائمی مانعِ حمل آپریشن کا حکم
- فرض نماز کی جماعت میں صفوں کو سیدھی کرنا اور سیدھی رکھنا کیا حکم رکھتا ہے اور تیڑھی تیڑھی کر رہنا کیسا ہے اگر تیڑھی تیڑھی کرنا جائز نہیں ہے تو درمیانی صف میں میز ر کھ کر کے کرسی پر بیٹھ کر کے نماز پڑھنا کراہت میں داخل ہوگا یا نہیں اگر وہ بھی معذور آدمی ہے اس کو اگر کرسی پر بیٹھ کر کے نماز پڑھنے کی سخت ضرورت ہے تو اپنی کرسی کہاں رکھ کر نماز پڑھے؟
- سردی کے موسم میں لحاف وغیرہ ناپاک ہوجائے تو صرف تر کپڑے سے پوچھ دینے سے پاک ہوجائے گا ؟ واضح رہے کہ اگر دھل دیا جاۓ تو خشک ہونے میں وقت لگتا ھو؟