کن کن صورتوں میں خیار شرط باطل ہو جاتا ہے اور کن کن صورتوں میں خیار شرط باطل نہیں ہوتا مدلل جواب تحریر کریں؟
الجواب:-جب خیار مشتری کو ہو اور وہ سامان مشتری کے ہاتھ میں ہلاک ہو جائے تو خیار شرط باطل ہو جاتی ہے اس طرح اگر سامان میں کوئی عیب پیدا ہو جائے جو مشتری کی طرف سے ہے تو بھی خیار شرط باطل ہو جاتی ہے اسی طرح اگر مبیع میں کوئی ایسی زیادتی پیدا ہو جائے جو اصل شئ میں ہو جیسے حسن و جمال مرض سے بری، انکھ وغیرہ سے سفیدی وغیرہ کی ختم ہونا بھی خیار شرط کو باطل کر دیتا ہے اسی طرح اگر دونوں کو خیار شرط ہو تو کسی ایک کی تصرف سے بھی خیار شرط باطل ہو جاتی ہے اسی طرح خیار شرط کے مدت گزر جانے سے بھی خیار شرط باطل ہو جاتی ہے وغیرہ ان کے علاوہ صورتوں سے خیار شرط باطل نہیں ہوتا ہے مثلا اگر ایسی زیادتی ہو جو اصل سے جدا ہو اور اصل سے پیدا بھی نہ ہوئی ہو-
📖 ويخرج عن ملكه اي البائع مع خيار المشتري فقط في هلك بيده بالثمن كتعيبه فيها بعيب لا يرتفع كقطع يد فيلزمه قيمته في المسألة الأولى....(رد المختار: ١٢٢/٧-١٢٣،كتاب البيوع، باب خيار الشرط،زكريا ديوبند)
📖 الخيار اذا كان للمشتري وهلكت العين في يده او انتقض وان ذلك يمنع للفسخ وكذا اذا ازداد المبيع زياده متصلة مولدة من الاصل كالحسن والجمال..... وكذا اذا كانت متصلة غير متولدة من الاصل كالصحيح والخياطة..... لو كان الخيار لهما فتصرف البائع وكذا تصرف المشتري.....(الفتاوى السراجية:٤٢٩،كتاب البيوع، باب خيار الشرط،زكريا جولي افريقه)
📖 قال فإن هلك في يده هلك الثمن وكذا اذا دخله عيب يخلاف ما إذا كان الخيار للبائع....(الهداية:٤٩/٣،كتاب البيوع باب الخيار الشرط،طعمية ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- عورت دوسری شادی کرے تو جنت میں اسے کون سا شوہر ملے گا؟
- دوسرے کے برے عمل سے بیزاری کی دعا کیا ہے؟
- نام بدلنے سے بیماری دور ہونے کا عقیدہ کیسا ہے؟
- فرض نماز گھر میں تراویح کے ساتھ پڑھنا کیسا ہے؟
- سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بہت کثرت سے وائرل ہورہی ہے جس میں ایک شخص یہ کہ رہا ہے کہ نماز وتر میں دو رکعت کے بعد تشہد احادیث سے ثابت نہیں اور یہ بھی کہ رہا ہے کہ وتر کو مغرب کی طرح نہ پڑھو اس طرح آپ کی وتر کی نماز نہیں ہوتی دعاء قنوت کی جگہ فنوت نازلہ پڑھی جائے گی یہ شخص لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر؛رہا ہے برائے مہربانی ہم سب کی صحیح بات کی طرف رہنمائی فرمائیں۔