الجواب بعون الملك الوهاب واضح رہے کہ صدقہ نافلہ کا مقصود جس طرح گناہ معاف ہونا ہے وغیرہ، اسی طرح صدقہ سے علاج معالجہ بھی کیا جاتا ہے، نیز غیر مسلم کے لیے صحت یابی کی دعا کرنا درست ہے،لہذا صورت مسؤلہ میں غیر مسلم کی جانب سے صدقہ نکالنا درست ہے، البتہ اس صدقہ سے صرف دنیاوی فائدہ ہوگا اخروی کوئی فائدہ نہ ہوگا، نیز بہتر ہوگا کہ صدقہ کرنے کے بعد غیر مسلم شخص کو اطلاع بھی کی جائے تاکہ وہ اسلام کی طرف مائل ہو _ فقط – واللّه ورسوله أعلم بالصّواب

📖 عن علي رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم بادروا بالصدقه فان البلاء لا يتخطاها (مشکوة شریف/باب فضل الصدقه)__ (بیھقی - رقم٣٣٥٣)

مزید متعلقہ سوالات