لجواب وباللہ التوفیق انسان چوں کہ اشرف المخلوقات ہے،اس لیے اس پر صرف کرنا زیادہ افضل ہے، نیز انسان مکلف بھی ہے، یعنی اس کے اعمال پر اجر و ثواب بھی مرتب ہوتاہے، اس اعتبار سے بھی اس پر خرچ کرنے میں زیادہ اجر ہوگا؛ کیوں کہ انسان پر خرچ کرنے کے ثواب کے ساتھ ساتھ، جس پر خرچ کیا گیا اسکو اس وجہ سے جو تقویت حاصل ہوئی، اور اس کی مدد سے جو نیک عمل کیا اس میں صارف کی بھی شرکت ہوگی- اور غالباً یہی مولوی صاحب کی بات کا مقصد بھی ہے، البتہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی جانور یا پرندے کو بھوکا دیکھنے کے باوجود اس کو کھانا یا چارہ نہ کھلایا جائے، بھوکے جانوروں یا پرندوں کو کھانا کھلانا بھی بڑے ثواب کا کام ہے۔ ایک بدکار عورت کی مغفرت صرف اس لیے ہوئی کہ اس نے ایک پیاسے کتے کو پانی پلایا تھا، اسلیے آپ اگر امداد کا جذبہ رکھتے ہیں تو آپ ترجیح انسانوں کو دیں اور اللہ تعالی نے آپ کو زیادہ نوازا ہے تو آپ جانوروں پر بھی خرچ کر سکتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلّم کا فرمان ہے کہ ہمارے لیے جانوروں میں بھی اجر ہے فقط

📖 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: «بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ، اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ، فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي كَانَ بَلَغَ مِنِّي، فَنَزَلَ الْبِئْرَ، فَمَلَأَ خُفَّهُ مَاءً، ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ حَتَّى رَقِيَ، فَسَقَى الْكَلْبَ، فَشَكَرَ اللهُ لَهُ، فَغَفَرَ لَهُ». قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ أَجْرًا؟ فَقَالَ:«فِي كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ». حوالہ: صحيح البخاري، كتاب أحاديث الأنبياء، باب حديث الغار، ج ٤، ص ١٧٣، رقم الحديث: ٣٤٦٧۔ وكذا في صحيح مسلم، كتاب السلام، باب فضل ساقي البهائم المحترمة وإطعامها، ج ٤، ص ١٧٧١، رقم الحديث: ٢٢٤٥۔

📖 وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ أَنْ تُشْبِعَ كَبِدًا جَائِعًا».وَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ. حوالہ: سنن أبي داود، ج ١، ص ٥٢٦۔

مزید متعلقہ سوالات