📖 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: «بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ، اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ، فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي كَانَ بَلَغَ مِنِّي، فَنَزَلَ الْبِئْرَ، فَمَلَأَ خُفَّهُ مَاءً، ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ حَتَّى رَقِيَ، فَسَقَى الْكَلْبَ، فَشَكَرَ اللهُ لَهُ، فَغَفَرَ لَهُ». قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ أَجْرًا؟ فَقَالَ:«فِي كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ». حوالہ: صحيح البخاري، كتاب أحاديث الأنبياء، باب حديث الغار، ج ٤، ص ١٧٣، رقم الحديث: ٣٤٦٧۔ وكذا في صحيح مسلم، كتاب السلام، باب فضل ساقي البهائم المحترمة وإطعامها، ج ٤، ص ١٧٧١، رقم الحديث: ٢٢٤٥۔
📖 وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ أَنْ تُشْبِعَ كَبِدًا جَائِعًا».وَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ. حوالہ: سنن أبي داود، ج ١، ص ٥٢٦۔
مزید متعلقہ سوالات
- امام ابوحنیفہ رحمہ نے کسی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث روایت کی ہے ؟
- ایک کمپنی ہے جس کے سامان کا ہم کو پرچار کرنا ہوگا اگر وہ سامان کوئی ہم سے خریدتا ہے تو ہمیں اس میں سے 80%کیا ایسا کرنا درست ہے دوسری بات ایک کورس ہوتا ہے جس میں کمپنی اپنے کام کو بتاتی ہے اگر ہم کسی کو اس کمپنی میں جوڑ دے تو اس میں بھی 80% ملے گا تو کیا ایسا کرنا درست ہے ؟
- قرآن پر ہاتھ رکھ کر جھوٹی قسم کھانے کا کفارہ کیا ہے؟
- ایک شخص کی ٹرک سے ٹکر ہوگئی وہ بہت زخمی ہوگیا اسپتال میں بھرتی کیا گیا تقریباً دو گھنٹے زندہ رہا اور پھر اس کا انتقال ہوگیا اور اسپتال میں کافی رقم خرچ ہوئی جو اس کے بھائی نے خرچ کی ، تو اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس کے بھائی کو یہ پیسے اس کے ترکہ سے ملیں گے یا نہیں ملیں گے ؟
- ایک عورت کی شادی ہوئی ایک ادمی سے اور اس کے ہاں بچے پیدا ہوئے پھر شوہر کا انتقال ہو گیا اور اپنا اپنا حصہ بھی تقسیم کر دی گئی اب اس عورت کی دوسری شادی ہوتی ہے ایک دوسرے ادمی سے اور اس کے یہاں بھی بچے ہیں اب اگر پہلی شادی سے ہوا لڑکا انتقال کر گیا اپنے بالغ بچے چھوڑ کر تو اس حالت میں لڑکے کے انتقال کے بعد اپنی ماں جو کہ اب دوسرے کی شادی میں ہے اس کو بھی حصہ ملے گا یا نہیں