پہلی صورت میں صرف وہ کمپنی کا پرچار کرنے پر اجرت اور عوض لے رہا ہے اسی کے مطابق جواب لکھا جا رہا ہے تو ایسی صورت میں اس کے لیے کمپنی کا پرچار کرنے پر اجرت لینا درست ہوگا بشرط کہ عرفا یا حقیقتا اجرت کا تعین ہو چکا ہو۔ (۲), کمپنی سے کسی شخص کو جوڑنے پر متعینہ کمیشن لینا درست ہے؛ لیکن اس کے بعد جو ممبر بنیں گے تو ان کے عمل پر پہلے والے شخص کے لیے اجرت لینا درست نہ ہوگا ؛ کیوں کہ اُس میں پہلے والے شخص کا براہ راست کوئی عمل دخل نہیں ہے اور اُن کا پہلے شخص کی ممبری سے وابستہ ہونا محض ایک دلالت اور رہنمائی ہے، جس پر کسی اجرت کا استحقاق نہیں ہوتا-

📖 وَفِي الْبَزَّازِيَّةِ وَالْوَلْوَالِجِيَّةِ: رَجُلٌ ضَلَّ لَهُ شَيْءٌ، فَقَالَ: مَنْ دَلَّنِي عَلَى كَذَا فَلَهُ كَذَا، فَهُوَ عَلَى وَجْهَيْنِ: إِنْ قَالَ ذَلِكَ عَلَى سَبِيلِ الْعُمُومِ، بِأَنْ قَالَ: «مَنْ دَلَّنِي»، فَالْإِجَارَةُ بَاطِلَةٌ؛ لِأَنَّ الدِّلَالَةَ وَالْإِشَارَةَ لَيْسَتَا بِعَمَلٍ يُسْتَحَقُّ بِهِ الْأَجْرُ. وَإِنْ قَالَ عَلَى سَبِيلِ الْخُصُوصِ، بِأَنْ قَالَ لِرَجُلٍ بِعَيْنِهِ: «إِنْ دَلَلْتَنِي عَلَى كَذَا فَلَكَ كَذَا»، إِنْ مَشَى لَهُ فَدَلَّهُ، فَلَهُ أَجْرُ الْمِثْلِ لِلْمَشْيِ لِأَجْلِهِ؛ لِأَنَّ ذَلِكَ عَمَلٌ يُسْتَحَقُّ بِعَقْدِ الْإِجَارَةِ، وَإِنْ دَلَّهُ بِغَيْرِ مَشْيٍ فَهُوَ وَالْأَوَّلُ سَوَاءٌ. حوالہ: رد المحتار، كتاب الإجارة، باب فسخ الإجارة، ج ٩، ص ١٣٠، ط: زکریا دیوبند۔

📖 الاجرۃ انما تكون بمقابلۃ العمل . (رد المحتار ۳۰۷/۴،كتاب النكاح ، باب المهر، زكريا)