ایک کمپنی ہے جس کے سامان کا ہم کو پرچار کرنا ہوگا اگر وہ سامان کوئی ہم سے خریدتا ہے تو ہمیں اس میں سے 80%کیا ایسا کرنا درست ہے دوسری بات ایک کورس ہوتا ہے جس میں کمپنی اپنے کام کو بتاتی ہے اگر ہم کسی کو اس کمپنی میں جوڑ دے تو اس میں بھی 80% ملے گا تو کیا ایسا کرنا درست ہے ؟
📖 وَفِي الْبَزَّازِيَّةِ وَالْوَلْوَالِجِيَّةِ: رَجُلٌ ضَلَّ لَهُ شَيْءٌ، فَقَالَ: مَنْ دَلَّنِي عَلَى كَذَا فَلَهُ كَذَا، فَهُوَ عَلَى وَجْهَيْنِ: إِنْ قَالَ ذَلِكَ عَلَى سَبِيلِ الْعُمُومِ، بِأَنْ قَالَ: «مَنْ دَلَّنِي»، فَالْإِجَارَةُ بَاطِلَةٌ؛ لِأَنَّ الدِّلَالَةَ وَالْإِشَارَةَ لَيْسَتَا بِعَمَلٍ يُسْتَحَقُّ بِهِ الْأَجْرُ. وَإِنْ قَالَ عَلَى سَبِيلِ الْخُصُوصِ، بِأَنْ قَالَ لِرَجُلٍ بِعَيْنِهِ: «إِنْ دَلَلْتَنِي عَلَى كَذَا فَلَكَ كَذَا»، إِنْ مَشَى لَهُ فَدَلَّهُ، فَلَهُ أَجْرُ الْمِثْلِ لِلْمَشْيِ لِأَجْلِهِ؛ لِأَنَّ ذَلِكَ عَمَلٌ يُسْتَحَقُّ بِعَقْدِ الْإِجَارَةِ، وَإِنْ دَلَّهُ بِغَيْرِ مَشْيٍ فَهُوَ وَالْأَوَّلُ سَوَاءٌ. حوالہ: رد المحتار، كتاب الإجارة، باب فسخ الإجارة، ج ٩، ص ١٣٠، ط: زکریا دیوبند۔
📖 الاجرۃ انما تكون بمقابلۃ العمل . (رد المحتار ۳۰۷/۴،كتاب النكاح ، باب المهر، زكريا)
مزید متعلقہ سوالات
- ولیمہ کا شرعی حکم کیا ہے اور اس کا مسنون وقت کون سا ہے؟
- خنزیر کے بالوں سے بنے برش سے دانت صاف کرنے کا کیا حکم ہے؟
- اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ میں نے تجھ کو جواب دیا تو ایسی صورت میں کون سی اور کتنی طلاق واقع ہوگی؟
- شوہر اگر اپنی بیوی سے کہے کہ ’’میں نے تجھ کو چھوڑ دیا‘‘ تو اس سے کتنی طلاق واقع ہوگی؟
- مہر فاطمی کی مقدار کیا ہے؟موجودہ وزن کے اعتبار سے بھی وضاحت کرنے کے بعد بتائیں کہ ادائیگی کے وقت کس قیمت کا لحاظ ہوگا ایا بوقت نکاح یا بوقت ادا مدلل بیان کریں؟