الجواب وبالله التوفيق: مروجہ قضائے عمری بدعت ہے، نہ قرآن میں اس کا ثبوت ہے اور نہ حدیث میں اس بارے میں کوئی روایت ہے، نہ صحابہ کے آثار ہیں ،نہ ہی تابعین ،تبع تابعین اور بزرگان دین کے عمل میں اس کا کہیں کوئی تذکرہ ہے اور ائمہ ار بعہ کے مذہب کی معتبر کتابوں میں بھی اس کا کوئی ذکر اور نام و نشان نہیں ہے۔ اس بارے میں جو روایت پیش کی جاتی ہے، وہ موضوع, من گھڑت ہے۔ مستفاد از: فتاویٰ محمودیہ، ٢٩٦/٨،ط: ادارۃ الفاروق کفایت المفتی، ٢٣٢/٤، ط: ادارۃ الفاروق

📖 حدیث من قضیٰ صلٰوۃ من الفرائض فی آخر جمعۃ من رمضان کان جابرًا لکل صلٰوۃٍ فائتۃٍ فی عمرہٖ الٰی سبعین سنۃً باطل قطعًا لانہٗ مناقضِ للاجماع علٰی ان شیئًا من العبادات لایقوم مقام فائتۃٍ سنواتٍ اھ۔ (الموضوعات الکبیر:ص:356، ط:مؤسسۃ الرسالۃ)

📖 من صلى في آخر جمعة من رمضان الخمس الصلوات المفروضة في اليوم والليلة قضت عنه ما أخل به من صلاة سنته.هذا: موضوع لا إشكال فيه ۔ (الفوائد المجموعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ،ص:54،ط:دارالکتب العلمیۃ)

مزید متعلقہ سوالات