کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ہماری مسجد میں امام صاحب تراویح پڑھارہے تھے،دوسری رکعت میں قعدہ کئے بغیر کھڑے ہوگئے ،پھر دو رکعت اور مکمل کرلیں ،اور سجدۂ سہو کرلیا ،تو کیا سجدۂ سہو کرنے سے چاروں رکعتیں صحیح ہوگئیں ،یا دو رکعت صحیح ہوگئیں ،یا ساری نماز فاسد ہوگئی،؟
باسمہ سبحانہ وتعالى الجواب وباللہ التوفيق: مذکورہ صورت میں صرف آخر کی دو رکعتیں معتبر ہوگی اور شروع کی دو رکعتیں باطل قرار پائے گی نیز پہلی دو رکعتوں میں جو قرآن پڑھا گیا ہے اس کا اعادہ کرنا ہوگا ـ
📖 وكان الشيخ أبوجعفر يقول، يجزيه عن تسليمة واحدة، و فى الخانية؛ هو الصـحيح به كان يفتي الشيخ الإمام أبوبكر محمد بن الفضل قال القاضي الإمام أبوعلى النسفي: قول الفقيه أبى جعفر، والشيخ الإمام أقرب إلى الاحتياط و كان الأخذ به أولى، وعليه الفتوى. (الفتاوی التاتارخائية۲- ۳۳۰رقم ۲۵۷۱ البحرالرائتق٢I٦٧ؐ کوئٹہ
مزید متعلقہ سوالات
- نکاح کے لیے اسلام قبول کرنے والے شخص کا نکاح صحیح ہوگا؟
- کیا خودکشی کرنے والے کی روح معلق رہتی ہے؟
- قعدۂ اخیرہ چھوڑ کر پانچویں رکعت کا سجدہ کرنے سے نماز صحیح ہوگی؟
- ایک شخص پر ٥ رمضان میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے ۵ رمضان میں وہ دو لاکھ کا مالک ہے اس کے بعد اس کے پاس مال میں اور اضافہ ہوا تقریباً دس لاکھ کا مالک ہوگیا اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس اضافی رقم کی زکوۃ کب نکالی جائے گی ؟
- چھ گھنٹے کی ڈیوٹی کی تنخواہ چار گھنٹے کام کرکے لینا شرعاً جائز ہے؟