کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں: زید کے پیر میں پھوڑا تھا زید فجر کی سنت گھر سے پڑھ کر نکلا اور اس پھوڑے سے خون نکلا اور بہ گیا زید نے مسجد میں وضو کیا اور جماعت میں شریک ہوگیا نماز مکمل کی اور اس پھوڑے سے جماعت کے دوران خون نکل آیا تھا تو اب شرعاً کیا حکم ہے ؟ کیا زید کو شرعاً معذور مانتے ہوئے نماز درست ہوجائے گی یا نماز کا اعادہ کرنا ہوگا ؟

الجواب وباللہ التوفیق: سوالنامہ سے واضح ہے کہ خروج دم کا دورانیہ نماز کے مکمل وقت کو گھیرے ہوئے نہیں ہیں لہذا نماز میں خون نکلنے کی وجہ سے وضو اور نماز دونوں باطل ہو جائیں گے اور نماز کا اعادہ کرنا ہوگا ،مصلی اس سلسلے میں معذور شمار نہیں ہوگا۔

📖 المعاني الناقضة للوضوء. الدم والقيح إذا خرجا من البدن فتجاوزا إلى موضع يلحقه حكم التطهير .... لأن خروج النجاسة مؤثر في زوال الطهارة الخ. (الهداية / كتاب الطهارة ٢٤/١ مكتبه بلال ديوبند)

📖 ثم المراد بالخروج من السبيلين مجرد الظهور وفي غيرهما عين السيلان (الدر المختار، كتاب الطهارة / مطلب نواقض الوضوء ٢٦٢/١ زكريا)

📖 ما ينقض خروجه الطهارة يكون نجسا في نفسه. (رسائل ابن عابدين / رسالة: الفوائد المخصصة بأحكام كي الحمصة ٥٥/١ سهيل اكيلمي لاهور)