الجواب وبالله التوفيق: جنتری میں جو اوقات صلوۃ لکھے ہوتے ہیں اور ان میں ۵ منٹ ۱۰ منٹ کا فاصلہ کرنے کو کہا جاتا ہے وہ سب احتیاطا ہیں فجر کا وقت ختم سحری یعنی صبح صادق کے بعد فوراً ہوجاتا ہے لہٰذا صورت مسؤلہ میں ختم سحری اور اذان کے درمیان پڑھی گئی نماز ہوگئ اب قضا کی ضرورت نہیں ـ (کتاب النوازل ۲۲۲/۳)

📖 أول وقت الفجر إذا طلع الفجر الثاني، وهو البياض المعتر ض في الأفق لحديث أمامة جبرئيل عليه السلام فإنه أم رسول الله صلى الله عليه وسلم فيها في اليوم الأول حين طلع الفجر،(ہدایہ ٧٦/١ رشیدیہ کوئٹہ)

مزید متعلقہ سوالات