میت کو قرآن خوانی کا ثواب پہنچانا صحیح حدیث سے ثابت ہے؟

الجواب:-حدیث شریف میں جس طرح دعا اور صدقات و خیرات کے ذریعہ میت کو ثواب پہنچانے کا ذکر آیا ہے اسی طرح مردوں کے سامنے سورہ یس پڑھنے اور میت کے سرہانے اور پائےتانے میں کھڑے ہو کر سورہ بقرہ کی شروع و آخر کی آیات پڑھنے کی ترغیب ائی ہے-

📖 عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَؤُوا يس عَلَى مَوْتَاكُمْ». حوالہ: سنن أبي داود، ج1، ص445؛ سنن ابن ماجه، ج1، ص104؛ المعجم الكبير للطبراني، ج20، ص219۔

📖 عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ، فَلَا تَحْبِسُوهُ، وَأَسْرِعُوا بِهِ إِلَى قَبْرِهِ، وَلْيُقْرَأْ عِنْدَ رَأْسِهِ بِفَاتِحَةِ الْبَقَرَةِ، وَعِنْدَ رِجْلَيْهِ بِخَاتِمَةِ الْبَقَرَةِ فِي قَبْرِهِ». حوالہ: شعب الإيمان، ج7، ص16، رقم الحديث: 9294، ط: دار الكتب العلمية۔