الجواب:-مسبوق اپنی نماز اس طرح ادا کرے گا کہ امام کے دونوں سلام پھیرنے کے بعد کھڑے ہو کر ثناء پھر سورہ فاتحہ پڑھے گا اس کے بعد بھی سورت پڑھ کر رکوع کرے گا اگر ایک رکعت رہ گئی تھی تو ایک رکعت کے بعد سلام پھیرے گا اور اگر دو رکعت رہ گئی تھی تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد اس کو اپنی دونوں رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت بھی پڑھے گا اور اگر تین رکعت رہ گئی ہو تو پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورت پڑھے گا جب کہ تیسری رکعت میں صرف سورہ فاتحہ پڑھے گا یہ حکم تو تلاوت کے اعتبار سے تھا قعدہ سے متعلق حکم یہ ہے کہ تین رکعت رہ جانے کی صورت میں ایک رکعت ادا کرنے کے بعد قعدہ کرنا واجب ہے اور مغرب میں اگر دو رکعت رہ گئی ہو تو ایک رکعت کے بعد قعدہ کرنا ہوگا کیونکہ یہ مسبوق کی دوسری رکعت ہے۔
📖 وحكمُه كالمؤتمِّ حقيقةً، فلا يأتي فيما يقضي بقراءةٍ ولا سهوٍ، ولا يتغير فرضُه أربعًا بنيةِ الإقامة؛ لأنه يقضي أول صلاته في حق القراءة، وآخرها في حق القعدة، وهو منفردٌ فيما يقضيه. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص 309، كتاب الصلاة، مكتبة أشرفية، ديوبند)
📖 أما المسبوق، فإنه يجب عليه أن يتابع الإمام فيما أدرك، ولا يتابع الإمام في التسليم، فإذا سلَّم الإمام قام هو إلى قضاء ما سبق به. (بدائع الصنائع، 1/563، كتاب الصلاة، مكتبة أشرفية، ديوبند)
📖 قوله: (حتى يُثني إلخ) تفريعٌ على قوله: منفردٌ فيما يقضيه بعد فراغ إمامه، فيأتي بالثناء والتعوذ؛ لأنه القراءة، ويقرأ؛ لأنه يقضي أول صلاته في حق القراءة، كما يأتي، حتى لو ترك القراءة فسدت. (رد المحتار على الدر المختار، 2/347، كتاب الصلاة، باب الإمام، مكتبة زكريا، ديوبند)