الجواب وباللہ التوفیق : اگر کوئی شخص کسی مجمع کو سلام کرے تو سننے والوں میں سے کسی ایک فرد پر سلام کا جواب دینا واجب ہے، اگر کوئی ایک شخص بھی جواب نہ دے تو وہ تمام لوگ گنہگار ہوں گے، لہذا ایسی صورت میں اگر مسجد کے مائک سے سلام کا اعلان ہو تو جہاں تک مائک کی آواز پہنچے اور جو حضرات اس سلام کو سنے ان میں سے کسی ایک فرد پر سلام کا جواب دینا واجب ہوگا ،اب سوال یہ پیدا ہوگا کہ کیسے معلوم ہو کہ کس نے جواب دیا ہے اور کس نے نہیں تو ایسی صورت میں جو بھی سنے اس کو سلام کا جواب دینے کی کوشش کرنی چاہیے کوئی نہ کوئی ایک فرد سلام کا جواب دینے والا ہو جائے گا اور وہ تمام لوگ اس کی وجہ سے ذمے سے بری ہو جائیں گے۔ جیسا کہ درج ذیل عبارت سے معلوم ہوتا ہے۔

📖 لو دخل شخص مجلسًا فإن كان الجمع قليلاً يعمهم سلام واحد فسلم كفاه، فإن زاد فخصص بعضهم فلا بأس ويكفي أن يرد منهم واحد، فإن زاد فلابأس، وإن كانوا كثيرًا بحيث لا ينتشر فيهم فيبتدئ أول دخوله إذا شاهدهم وتتأدى سنة السلام في حق جميع من يسمعه، ويجب على من سمعه الرد على الكفاية. (فتح الباري ١٤/١١-١٥ رياض)

📖 قال الفقيه أبو الليث : إذا دخل جماعة على قوم، فإن تركوا السلام فكلهم آثمون في ذلك، وإن سلم واحد منهم جاز عنهم جميعا، وإن تركوا الجواب فكلهم آثمون، وإن ردّ واحد منهم أجزأهم. (تكملة فتح الملهم ٢٤٣/٤ المكتبة الأشرفيةدیوبند) فقط واللہ تعالی اعلم ۔

مزید متعلقہ سوالات