نام بدلنے سے بیماری دور ہونے کا عقیدہ کیسا ہے؟
📖 عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُغَيِّرُ الِاسْمَ الْقَبِيحَ. حوالہ:سنن الترمذي، أبواب الأدب، باب ما جاء في تغيير الأسماء، ج 2، ص 111، ط: الأشرفية ديوبند۔
📖 عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: أُتِيَ بِالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ، فَوَضَعَهُ عَلَى فَخِذِهِ، وَأَبُو أُسَيْدٍ جَالِسٌ، فَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَمَرَ أَبُو أُسَيْدٍ بِابْنِهِ، فَاحْتُمِلَ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفَاقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَيْنَ الصَّبِيُّ؟» قَالَ أَبُو أُسَيْدٍ: أَقْلَبْنَاهُ يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ: «مَا اسْمُهُ؟» قَالَ: فُلَانٌ. قَالَ: «لَا، وَلَكِنْ اسْمُهُ الْمُنْذِرُ». فَسَمَّاهُ يَوْمَئِذٍ الْمُنْذِرَ.
مزید متعلقہ سوالات
- عورت دوسری شادی کرے تو جنت میں اسے کون سا شوہر ملے گا؟
- دوسرے کے برے عمل سے بیزاری کی دعا کیا ہے؟
- فرض نماز گھر میں تراویح کے ساتھ پڑھنا کیسا ہے؟
- سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بہت کثرت سے وائرل ہورہی ہے جس میں ایک شخص یہ کہ رہا ہے کہ نماز وتر میں دو رکعت کے بعد تشہد احادیث سے ثابت نہیں اور یہ بھی کہ رہا ہے کہ وتر کو مغرب کی طرح نہ پڑھو اس طرح آپ کی وتر کی نماز نہیں ہوتی دعاء قنوت کی جگہ فنوت نازلہ پڑھی جائے گی یہ شخص لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر؛رہا ہے برائے مہربانی ہم سب کی صحیح بات کی طرف رہنمائی فرمائیں۔
- نیم کے پتوں میں پکے ہوئے پانی سے وضو کرنا درست ہے یا نہیں ؟