پانی کے کتنے قسمیں ہیں اور کیا کیا ہے اور حکم مدلل بیان کریں؟

الجواب:-پانی کی پانچ قسمیں ہیں(١) طاہر مطہر: یعنی وہ پانی جو خود بھی پاک ہو اور پاک کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو جیسے ماء مطلق(٢) طاہر مطہر مکروہ: جیسے وہ قلیل پانی جس میں پالتو بلی کھلی مرغی وغیرہ منہ ڈال دیں اس کا حکم یہ ہے اگر غیر مکروہ پانی موجود ہو تو اس پانی کو استعمال کرنا مکروہ تنزیحی ہے اور اگر اس کے علاوہ پانی نہیں ہے تو استعمال کرنا کوئی حرج نہیں (٣) طاہر غیر مطہر: یعنی وہ پانی جو بذات خود پاک ہو ؛لیکن وہ حدث کو پاک کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو اور اس کا حکم دوبارہ وضو اور غسل معتبر نہ ہو جیسے ماء مستعمل لیکن ما مستعمل سے نجاست حقیقہ زائل کی جاسکتی ہے مثلا ناپاک کپڑا دھویا جا سکتا ہے(٤) نجس: یعنی وہ پانی جس میں کوئی نجاست مل گئی ہو اس کے حکم اسے کوئی طہارت حاصل نہیں ہوتا ہے جیسے وضو غسل وغیرہ(٥) مشکوک پانی: وہ پانی جس میں گدھے یا خچر نے منہ ڈالا ہو اس کا حکم یہ ہے کہ دیگر پاک پانی رہتے ہوئے ا س سے وضو وغیرہ نہ کرے اور اگر دیگر پانی موجود نہ ہو تو اس سے وضو کرلے، لیکن بعد میں تیمم بھی کرے –

📖 أَمَّا الْمِيَاهُ فَعَلَى خَمْسَةِ أَقْسَامٍ: الْأَوَّلُ: طَاهِرٌ مُطَهِّرٌ غَيْرُ مَكْرُوهٍ، وَهُوَ الْمَاءُ الْمُطْلَقُ. وَالثَّانِي: طَاهِرٌ مُطَهِّرٌ مَكْرُوهٌ، فَهُوَ مَا شَرِبَ مِنْهُ الْهِرُّ وَنَحْوُهُ، وَكَانَ قَلِيلًا. وَالثَّالِثُ: طَاهِرٌ غَيْرُ مُطَهِّرٍ، وَهُوَ مَا اسْتُعْمِلَ لِرَفْعِ حَدَثٍ، أَوْ لِقُرْبَةٍ، إِلَى آخِرِهِ. وَالرَّابِعُ: مَاءٌ نَجِسٌ، وَهُوَ الَّذِي حَلَّتْ فِيهِ نَجَاسَةٌ، إِلَى آخِرِهِ. وَالْخَامِسُ: مَاءٌ مَشْكُوكٌ فِي طَهُورِيَّتِهِ، وَهُوَ مَا شَرِبَ مِنْهُ حِمَارٌ أَوْ بَغْلٌ. حوالہ: مراقي الفلاح، ص 11، باب المياه۔ وَفِي الْفَتْوَى بِهِ: لَوْ كَانَ الْمَاءُ مُسْتَعْمَلًا كَفَى فِي إِزَالَةِ النَّجَاسَاتِ. حوالہ: حاشية شرح الوقاية، ج 1، ص 122؛ الدر المختار، ج 1، ص 37؛ رد المحتار على الدر المختار (الشامي)، ج 1، ص 353، ط: زكريا، ديوبند؛ وج 1، ص 201، ط: كراتشي۔

📖 الْمِيَاهُ عَلَى خَمْسَةِ أَقْسَامٍ: الْأَوَّلُ: طَاهِرٌ مُطَهِّرٌ غَيْرُ مَكْرُوهٍ، وَهُوَ الْمَاءُ الْمُطْلَقُ. وَالثَّانِي: طَاهِرٌ مُطَهِّرٌ مَكْرُوهٌ، وَهُوَ مَا شَرِبَتْ مِنْهُ الْهِرَّةُ وَنَحْوُهَا، وَكَانَ قَلِيلًا. وَالثَّالِثُ: طَاهِرٌ غَيْرُ مُطَهِّرٍ، وَهُوَ مَا اسْتُعْمِلَ لِرَفْعِ حَدَثٍ... وَالرَّابِعُ: مَاءٌ نَجِسٌ، وَهُوَ الَّذِي حَلَّتْ فِيهِ نَجَاسَةٌ، وَكَانَ رَاكِدًا قَلِيلًا... وَالْخَامِسُ: مَاءٌ مَشْكُوكٌ فِي طَهُورِيَّتِهِ، وَهُوَ مَا شَرِبَ مِنْهُ حِمَارٌ أَوْ بَغْلٌ. حوالہ: نور الإيضاح، ص 10–12، كتاب الطهارة، أقسام المياه، مكتبة البشري، كراتشي