سفر شرعی کی مقدار میں فقہاء کا اختلاف اور راجح قول
الجواب:-سفر شرعی کی مقدار میں اختلاف ہے چنانچہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اقل مدت سفر دو دن اور تیسرے دن کا اکثر حصہ ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ایک قول کے مطابق ایک دن اور ایک رات اور امام مالک و امام احمد رحمہ اللہ کے نزدیک چار فرسخ اقل مدت سفر ہے یہی ایک قول امام شافعی کا ہے اور طرفین رحمہ اللہ کے نزدیک تین دن تین رات اقل مدت سفر ہے اور یہی زیادہ صحیح اور راجح قول ہے-
📖 السفرُ الذي تتغيَّرُ به الأحكامُ أن يقصدَ مسيرةَ ثلاثةِ أيامٍ ولياليها، وقدَّر أبو يوسف رحمه الله بيومين وأكثرَ اليومِ الثالث، والشافعي رحمه الله بيومٍ وليلةٍ في قولٍ... (الهداية، 1/173، كتاب الصلاة، زمزم، ديوبند)
📖 قال أصحابنا: مسيرُ ثلاثةِ أيامٍ، وروي عن أبي يوسف: يومان وأكثرُ الثالث، وقال مالك: أربعةُ بُرُدٍ، كلُّ بريدٍ اثنا عشر ميلًا، واختلفت أقوال الشافعي فيه، قيل: ستةٌ وأربعون ميلًا، وقيل: يومٌ وليلةٌ...(بدائع الصنائع، 1/261–262، كتاب الصلاة، مكتبة أشرفية، ديوبند)
مزید متعلقہ سوالات
- مسافر امام نے قصر کے بجائے چار رکعت پڑھا دیں تو بعد میں یاد آنے پر کیا کرے؟
- میت کو قرآن خوانی کا ثواب پہنچانا صحیح حدیث سے ثابت ہے؟
- مسجد کی زائد چٹائیاں اور قالین فروخت کرکے رقم مسجد کی ضروریات میں خرچ کرنا جائز ہے؟
- نجاست حقیقہ کی پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
- ایک صاحب کے دو بچے دو لڑکے دوسرے صاحب کا ایک لڑکا یہ دونوں آدمی یہ چاہتے ہیں کہ بڑے جانور ان بچوں کی طرف سے ذبح کیا جائے تو اس کی کیا شکل ہوگی جب کہ ہر بچہ کی طرف سے الگ جانور ذبح طے ہو رہا ہے اگر حصہ داری کا اعتبار کرتے ہیں تو ہر بچہ کی طرف سے دو دو حصے ہو جاتے ہیں تو ایک حصہ بچ جاتا ہے تو اس ایک حصہ کے بارے میں کیا کیا جائے؟