الجواب بعون الملک الوھاب= واضح رہے کہ ایسے حالات میں شریعت اور حکمت دونوں اس بات کی اجازت دیتی ہیں کہ اطلاع دینے میں نرمی اور حکمت سے کام لیا جائے، تاکہ صدمے سے ان کی صحت پر شدید منفی اثر نہ پڑے۔ اس معاملے میں درج ذیل نکات کو مدنظر رکھنا چاہیے، کسی قریبی اور ہمدرد شخص کے ذریعے اطلاع دینا، خبر دینے کے لیے ایسا شخص منتخب کیا جائے جو بیوی کے لیے انتہائی قریبی اور ہمدرد ہو، جیسے اولاد، بہن بھائی، یا والدین۔ اور وہ شخص نرمی اور تسلی کے ساتھ بات کرے تاکہ خاتون پر زیادہ بوجھ نہ پڑے روحانی اور جذباتی سہارا دینا: صدمے کے وقت دینی اور روحانی پہلو کو مضبوط کیا جائے، جیسے کہ صبر کی تلقین، اللہ کی رضا پر راضی رہنے کی یاد دہانی، اور دعا و تسلی کے ذریعے حوصلہ دینا۔ اگر اندیشہ ہو کہ بیوی خبر سن کر شدید صدمے میں جا سکتی ہے، تو فوراً بتانے کے بجائے مناسب وقت اور طریقہ اختیار کرنا بہتر ہوگا۔ شریعت میں اس بات کی اجازت ہے کہ کسی کی جان اور صحت کے تحفظ کے لیے ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے جو نقصان سے بچا سکے۔ >

📖 > وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا "اور اپنی جانوں کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر مہربان ہے۔(النساء:٢٩)

📖 امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب کسی بیمار یا ضعیف انسان کو ایسی خبر دی جائے جو اس کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے، تو حکمت اور تدریج کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔" (زاد المعاد، جلد ٢، صفحہ ٣٣٤) > "لَا يُخِيفُ الْمُسْلِمُ الْمُسْلِمَ" "کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو خوفزدہ نہ کرے۔" (سنن أبي داود: 5004)

📖 نبی کریم ﷺ کا عمومی طریقہ تھا کہ لوگوں کو مشکل باتیں حکمت اور نرمی سے سمجھائی جائیں، تاکہ وہ ان کو برداشت کر سکیں۔ > ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ "اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ۔(النحل)

مزید متعلقہ سوالات