جواب:-اپنے غریب داماد کو زکوۃ کا مال دینا شرعا درست ہے کیونکہ داماد اصول اور میں سے نہیں ہے دوسری بات یہ ہے کہ داماد دینے سے بیٹی کو دینا ثابت نہیں ہوتا بشرط کہ داماد میں وہ تمام شرائط موجود ہو جو زکوۃ وصول کرنے کے لیے ہے ۔فقط واللہ اعلم

📖 ويجوز دفع الزكاة الى من سوى الوالدين والمولودين من الاقارب من الأخوة والاخوات وغيرهم لانقطاع منافع الاملاك بينهم.... بدائع الصنائع:١٦٢/٢ كتاب الزكاة, اشرفيه ديوبند)

📖 والافضل صرفها للاقرب والاقرب من كل زي رحم محرم منه ثم جيرانه ثم لاهل محلته ثم لاهل حدفته...(حاشية التحطاوي:٧٢٢ كتاب الزكاة اشرفيه ديوبند)

📖 ويجوز دفعها لزوجه ابنه وزوج ابيه.....(تاتارخانية:٣٤٥/٢ كتاب الزكاة بيروت)

مزید متعلقہ سوالات